وفاقی حکومت نے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پٹرول اور ڈیزیل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے بعد عالمی توانائی کے بہاؤ میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے تناظر میں لیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں اور ہفتہ وار جائزے کا نظام
پیٹرولیم ڈویژن کے اعلان کے مطابق پٹرول کی نئی قیمت 321.17 روپے جبکہ ڈیزیل 335.86 روپے فی لیٹر ہو گی۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت اب قیمتوں کا ہفتہ وار جائزہ لے گی، جو پہلے پندرہ روزہ بنیادوں پر ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال بہتر ہونے پر قیمتیں فوری طور پر کم کر دی جائیں گی۔
پیٹرولیم ڈویولپمنٹ لیوی میں تبدیلی
- پٹرول پر لیوی 84.40 روپے سے بڑھا کر 105 روپے فی لیٹر کر دی گئی
- ہائی اسپیڈ ڈیزیل پر لیوی 76.21 روپے سے کم کر کے 55 روپے فی لیٹر کر دی گئی
حکومتی ردعمل اور اقدامات
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عوام سے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایندھن کے ذخائر کافی ہیں اور گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت درآمدات اور برآمدات پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت متبادل راستوں پر کام کر رہی ہے اور سعودی عرب سے ریڈ سی پورٹ ینبوع کے ذریعے تیل کی فراہمی کے لیے بات چیت کی گئی ہے۔
کاروباری حلقوں کی تشویش
پاکستان بزنس فورم (PBF) نے حکومت سے قیمتوں میں اضافے پر نظرثانی کی اپیل کی ہے۔ PBF کے صدر خواجہ محبوب الرحمان کا کہنا تھا کہ ایک ہفتے میں 63 روپے تک کا اضافہ معاشی سرگرمیوں کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ فورم نے مطالبہ کیا کہ حکومت پیٹرولیم لیوی میں 50 فیصد کمی کرے۔
ہارمز آبنائے بند ہونے کے اثرات
ایران کی جانب سے ہارمز آبنائے بند کرنے کے اعلان کے بعد پاکستان نے سعودی عرب سے متبادل راستے کی درخواست کی ہے۔ وزیر پیٹرولیم کے مطابق سعودی حکام نے ینبوع بندرگاہ کے ذریعے تیل کی فراہمی کو یقینی بنانے کا یقین دلایا ہے۔
مزید قیمتی تبدیلیاں
حکومت نے کیروسین کی قیمت میں 130.08 روپے کا اضافہ کرتے ہوئے 318.81 روپے فی لیٹر مقرر کی ہے۔ یہ تاریخی اضافہ سمجھا جا رہا ہے۔
آئندہ اقدامات
حکومت نے ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ غیر قانونی منافع کمانے کے لیے ایندھن کی فروخت روکنے والوں کے خلاف قانونی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال کے مطابق اپنی حکمت عملی مرتب کرے گی۔
