وزیراعظم کا عوام پر مالی بوجھ کم کرنے کا اعلان
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعے کے روز اعلان کیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے سے گریز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام عوام پر مالی بوجھ کو کم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
فروری کے بعد پہلی قیمتوں کا جائزہ
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت 13 مارچ کو ایندھن کی قیمتوں کا جائزہ لینے والی تھی۔ گزشتہ ہفتہ 6 مارچ کو حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا تھا، جس کی وجہ امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ بتایا گیا تھا۔
علاقائی کشیدگی کا معیشت پر ممکنہ اثر
وزیراعظم نے کہا کہ جاری علاقائی کشیدگی عالمی معیشت پر دباؤ ڈال رہی ہے، جو پاکستان کی مالی استحکام کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا، “بروقت پالیسی سازی اور سخت مالی نظم و ضبط کے ذریعے ہم صورتحال کو مؤثر طریقے سے سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
عوام کو ریلیف دینے کی کوششیں
وزیراعظم نے واضح کیا کہ حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت بچت اور ایندھن کے تحفظ کے اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ شہریوں کو بڑھتی ہوئی لاگت سے بچایا جا سکے۔
حکومتی بچت کا منصوبہ
ملکی پٹرولیم قیمتوں میں تیزی سے اضافے اور عالمی تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے پیش نظر حکومت نے بچت کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔ وزیراعظم نے 9 مارچ کو قوم کے نام اپنے خطاب میں کہا تھا کہ موجودہ عالمی ایندھن کے بحران سے نمٹنے کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں۔
- حکومتی اخراجات میں کمی
- ہفتے میں چار دن کام کا نیا نظام
- غیر ضروری نقل و حرکت میں کمی
ان اقدامات کا مقصد مشکل معاشی حالات کے دوران اخراجات کو کم کرنا اور توانائی کا تحفظ کرنا ہے۔
