مارسیلے کے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے دور سے قبل سیاسی کشمکش عروج پر ہے۔ میئر بینوا پائن نے فرانس انسمیز کے امیدوار کی اتحادی فہرست کی پیشکش مسترد کر دی ہے، جس سے شہر میں ریشن مینٹ نیشنل کی تاریخی فتح کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
اتحاد کی پیشکش اور فوری انکار
پہلے دور میں 36.7 فیصد ووٹ حاصل کرنے والے میئر بینوا پائن نے پیر کے روز دوسرے دور کی مہم کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے فرانس انسمیز کے امیدوار سیباسٹیان ڈیلوگو کی اتحاد کی پیشکش کو “سیاسی سازش” قرار دے کر مسترد کر دیا۔ ڈیلوگو نے پہلے دور میں 11.9 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔
میلینچون کی سخت تنقید
فرانس انسمیز کے رہنما ژاں-لوک میلینچون نے اس فیصلے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “بینوا پائن کی یہ گھمنڈی بے ذمہ داری ہے۔ انہوں نے دائیں بازو کے خطرے کو لفی کے ساتھ تکنیکی اتحاد پر ترجیح دی ہے۔” سیاسی مبصرین کے مطابق میئر اور فرانس انسمیز کے درمیان حالیہ ہفتوں میں ہونے والی تلخ مہم نے اس انکار کو جنم دیا ہے۔
ڈیلوگو کے سامنے مشکل انتخاب
اب سیباسٹیان ڈیلوگو کے سامنے مشکل ترین انتخاب ہے:
- یا تو وہ دوسرے دور کی مہم جاری رکھیں، جس سے دائیں بازو کی فتح کا خطرہ بڑھ جائے گا
- یا پھر وہ اپنی امیدواری واپس لے کر دائیں بازو کے خلاف تاریخی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں
شمالی اضلاع میں خطرناک صورتحال
مارسیلے کے 13ویں اور 14ویں اضلاع میں صورتحال خاصی تشویشناک ہے۔ یہاں آر این کی امیدوار ساندرائن ڈی اینجیو 39.8 فیصد ووٹوں کے ساتھ سرفہرست ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ڈیلوگو نے اپنی امیدواری برقرار رکھی تو یہ اضلاع دائیں بازو کے حوالے ہو سکتے ہیں۔
سیاسی محاذ آرائی
فرانس انسمیز کے اندرونی حلقوں سے وابستہ ذرائع کے مطابق “دباؤ موجود ہے۔ ہر ایک کو عوامی مفاد کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ امیدواری واپس لینا بھی فاشزم کے خلاف ایک موقف ہے۔” انہوں نے بتایا کہ 2020 کے بلدیاتی انتخابات میں بھی ایسے حالات میں امیدواری واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
مستقبل کے سیاسی اثرات
ماہرین سیاسیات کے مطابق ڈیلوگو کا فیصلہ نہ صرف مارسیلے بلکہ پورے فرانس کی سیاسی صورتحال پر اثرانداز ہوگا۔ اگر فرانس انسمیز نے امیدواری واپس لی تو وہ خود کو “ذمہ دار سیاسی قوت” کے طور پر پیش کر سکے گی، خاص طور پر اس وقت جب صدارتی انتخابات صرف ایک سال دور ہیں۔
امیدواروں کے پاس منگل شام 6 بجے تک اپنی فہرستیں جمع کروانے کا وقت ہے۔ مارسیلے کے عوام اور پورے فرانس کی نظریں اب اس تاریخی سیاسی فیصلے پر مرکوز ہیں جو شہر کے مستقبل کا تعین کرے گا۔
