پیرس کے میئر کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ایک غیر متوقع موڑ آیا ہے۔ مرکز اور دائیں بازو کے امیدوار پیری-ایوس بورنازیل نے اپنی فہرست راچیدا داتی کی فہرست میں ضم کر دی ہے، حالانکہ مہم کے دوران دونوں نے ایک دوسرے پر سخت تنقید کی تھی۔
وعدہ خلافی اور سیاسی مصلحت
25 فروری کو بورنازیل نے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ داتی کے ساتھ کسی بھی قسم کے اتحاد میں شامل نہیں ہوں گے۔ ان کے الفاظ تھے: “میں جیتنے کے لیے امیدوار ہوں۔” تاہم، پہلے مرحلے میں محض 11.34 فیصد ووٹ حاصل کرنے کے بعد، ان کی حیثیت ایک فیصلہ کن عنصر کی بن گئی۔ داتی نے 25.46 فیصد جبکہ ایمانوئل گریگوار نے 37.98 فیصد ووٹ حاصل کیے۔
ایک روزہ مذاکرات کے بعد، بورنازیل نے اعلان کیا کہ وہ اپنی فہرست داتی کی فہرست میں ضم کر رہے ہیں، لیکن خود وہ اس اتحادی فہرست کا حصہ نہیں بنیں گے۔ فرانس 2 پر انہوں نے کہا، “میرے لیے، راستہ یہیں ختم ہوتا ہے۔”
ذاتیات پر مبنی مہم کے بعد مصالحت
یہ اتحاد اس وقت سامنے آیا ہے جب کہ دونوں امیدواروں نے مہم کے دوران ایک دوسرے پر سخت تنقید کی تھی۔ 21 جنوری کو راچیدا داتی نے آر ایم سی پر بورنازیل کو “دنیا کی سب سے بیوقوف دائیں بازو” کہا تھا۔
جواباً، 25 فروری کو فرانس انٹر پر بورنازیل نے عوام سے پوچھا تھا: “کیا آپ واقعی چھ سال کے لیے راچیدا داتی کو میئر بنانا چاہتے ہیں؟ اس کے بارے میں اچھی سوچیں!”
اس کے علاوہ، اپنی کتاب میں بورنازیل نے داتی کو “خود پرستی کی مستی میں مبتلا شخص” قرار دیا تھا اور ان کے ساتھ کام کرنے کو “خودکشی مشن” سے تعبیر کیا تھا۔
انتخابی میدان پر اثرات
اس اتحاد سے دوسرے مرحلے کی مہم یکسر بدل گئی ہے۔ اب مرکز اور دائیں بازو کی طاقتیں ایمانوئل گریگوار کے خلاف متحد ہو گئی ہیں۔ سیاسی مبصرین اسے محض ووٹوں کی سیاست سمجھ رہے ہیں، جہاں پرانی دشمنیاں انتخابی مصلحت کے آگے ہیچ ہیں۔
پیرس کے عوام اب دیکھیں گے کہ یہ غیر متوقع اتحاد شہر کی مستقبل کی سیاست کو کس شکل دیتا ہے۔
