وزیراعظم کا اعلان
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے کے حل کے لیے اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ وزیراعظم نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر پوسٹ میں کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں جنگ ختم کرنے کے لیے مکالمے کے جاری اقدامات کا خیرمقدم کرتا ہے اور ان کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے لکھا، “امریکہ اور ایران کی باہمی رضامندی کی صورت میں، پاکستان جاری تنازعے کے جامع حل کے لیے معنی خیز اور حتمی مذاکرات کی سہولت کاری کے لیے میزبان بننے کے لیے تیار اور فخر محسوس کرے گا۔”
ٹرمپ کی جانب سے حمایت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی وزیراعظم کی اس پیشکش کو اپنے ٹروتھ سوشل ہینڈل پر دوبارہ پوسٹ کیا۔ یہ پیشکش اس وقت سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ میں دشمنیوں کے “مکمل اور کلی حل” کے بارے میں “بہت اچھی اور تعمیری” بات چیت ہوئی ہے۔
پاکستان کی ثالثی کی کوششیں
فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان خود کو ایک اہم ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ختم کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کی۔
سینئر پاکستانی عہدیدار ٹہران، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے درمیان پیغام رسانی کا کام کر رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے بھی صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان کال کی تصدیق کی ہے۔
خارجہ دفتر کا مؤقف
ایک علیحدہ بیان میں، وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ اگر دونوں فریق راضی ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔ انہوں نے سی این این کو بتایا، “پاکستان اپنی دیرینہ خارجہ پالیسی کے اصولوں کے مطابق، مکالمے اور مشغولیت کے ذریعے تنازعے کے حل کے لیے پرعزم ہے۔”
جنگ کے اثرات
یہ جنگ، جس کا آغاز 28 فروری کو ہوا، اب چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس جنگ میں اب تک 2,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تنازعے نے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، عالمی مہنگائی کے خدشات بڑھائے ہیں اور مغربی دفاعی اتحاد کو متاثر کیا ہے۔
پاکستان ترکی اور مصر کے ساتھ قریبی ہم آہنگی میں، خطے میں مزید تصادم کو روکنے اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان پیغام رسانی کے ذریعے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
