تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فوجی کارروائی کر دی ہے، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی انتہائی خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے۔ خلیجی ریاستیں ایران کے خلاف فوجی آپشنز پر غور کر رہی ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل نے ایران کی خلیجی ممالک پر حملوں پر ہنگامی بحث کا اعلان کیا ہے۔
فوجی تعیناتی میں تیزی اور سفارتی کوششیں
ذرائع کے مطابق پینٹاگون امریکی فوج کے ایلیٹ 82 ویں ائیربورن ڈویژن کے ہزاروں فوجیوں کو مشرق وسطیٰ بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 3,000 فوجیوں کو خطے میں تعینات کیا جائے گا۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آ رہا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ ایران سے مذاکرات کی کوششوں میں مصروف ہے۔
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترکی اپنے تمام وسائل کے ساتھ ایران جنگ میں امن قائم کرنے کے لیے کام جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ نے ترکی کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
پاکستان کی امن کی کوشش اور توانائی کی حفاظت
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کی امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کو دوبارہ شیئر کیا ہے۔ یہ پیشکش خطے میں جنگ ختم کرنے کے لیے کی گئی تھی۔
ایک ہی وقت میں، پاکستان نے مارچ اور اپریل کے لیے پیٹرول کی ترسیل کو “بڑی حد تک محفوظ” کر لیا ہے۔ وزارت خزانہ کے زیرانتظام اعلیٰ سطحی کمیٹی کے اجلاس میں توانائی کی فراہمی کے حالات کا جائزہ لیا گیا اور عالمی تیل و گیس کے منڈیوں میں ترقی کا اندازہ لگایا گیا۔
بین الاقوامی ردعمل اور معاشی اثرات
جرمنی کے معاشی وزیر کیتھرینا رائشے نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات جرمنی کے نازک معاشی بحالی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنگ جاری رہی تو اعلیٰ توانائی کی قیمتوں اور مہنگائی کی وجہ سے یورپ کی سب سے بڑی معیشت کو تقریباً 40 ارب ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔
لبنان کے تین سینئر سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ پہلی بار لبنانی فضائی حدود کے اوپر ایک ایرانی میزائل کو روک لیا گیا ہے۔ دو ذرائع کے مطابق اس interception کے لیے ایک غیر ملکی بحری جہاز ذمہ دار تھا۔
اقوام متحدہ کا ہنگامی اجلاس
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل بدھ کے روز ایران کی خلیجی ممالک پر حملوں پر ہنگامی بحث کرے گی۔ بحرین نے خلیجی تعاون کونسل کے چھ ممالک اور اردن کی جانب سے اس اجلاس کی درخواست کی تھی، جس پر ایران نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
ایرانی صدر پیزیشکیان نے کہا ہے کہ خطے میں استحکام تعاون کے ذریعے ممکن ہے، لیکن موجودہ فوجی صورتحال نے پورے مشرق وسطیٰ کو ایک نئے بحران میں دھکیل دیا ہے۔
