خلیج فارس میں کشیدگی عروج پر، عالمی تیل کے ذخائر کھولنے کی تیاری
13 اپریل 2026 کی رات امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ فوجی کارروائی کی ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعے کے سفارتی حل کے لیے مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ عرب میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ ایران نے جوابی کارروائی کے طور پر ہرمز کے آبنائے کو بلاک کر دیا ہے، جس سے عالمی تیل کی سپلائی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
حزب اللہ نے لبنانی حکومت پر واشنگٹن مذاکرات منسوخ کرنے کا دباؤ
حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے لبنانی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ واشنگٹن میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والے مذاکرات منسوخ کر دے۔ قاسم نے اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں اس ملاقات کو بے مقصد قرار دیتے ہوئے کہا کہ گروپ اسرائیلی حملوں کا مقابلہ جاری رکھے گا۔ لبنانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بیروت ان مذاکرات میں جنگ بندی کے لیے اپنا مؤقف پیش کرے گا۔
امریکی اہلکار نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق کی
سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ اہلکار کے بقول “امریکہ اور ایران کے درمیان مسلسل رابطہ قائم ہے اور معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں۔” یہ بیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ “ایران سمجھوتہ کرنا چاہتا ہے۔”
عالمی توانائی کے بحران کے اثرات
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح برول نے کہا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ تیل کے عالمی ذخائر کھولنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، لیکن اگر ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں توانائی کے بحران کی ضرورت پڑی تو “ہم کارروائی کے لیے تیار ہیں۔” انہوں نے بتایا کہ اس جنگ کے نتیجے میں 80 سے زیادہ تیل اور گیس کی سہولیات کو نقصان پہنچا ہے۔
یوکرین پر اقتصادی اثرات
یوکرین کے سینٹرل بینک کے گورنر آندرئی پشنی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے نے یوکرین میں مہنگائی کو بڑھا دیا ہے اور اس سے افراط زر کی شرح میں 1.5% سے 2.8% تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ہنگری میں صدر وکٹر اوربان کی حکومت کے خاتمے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے یوکرین کے لیے یورپی یونین کے 90 ارب یورو کے قرضے میں تاخیر ختم ہو جائے گی۔
اسرائیل کے دعوے اور علاقائی کشیدگی
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ہفتے لبنان میں کیے گئے وسیع پیمانے پر حملوں میں حزب اللہ کے پانچ کمانڈروں سمیت 250 سے زیادہ اراکین ہلاک ہوئے ہیں۔ فوج کے ترجمان کے مطابق یہ حملے ملک کے جنوبی علاقوں، بقاع کے علاقے اور بیروت میں کیے گئے تھے۔ اسرائیلی فوج لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
بین الاقوامی ردعمل
صدر ٹرمپ اور پوپ لیو چہاردہم کے درمیان جاری تنازعے پر اٹلی کی وزیر اعظم جیورجیا میلونی نے ٹرمپ کے بیانات کو “ناقابل قبول” قرار دیا ہے۔ میلونی نے اپنے بیان میں کہا کہ “پوپ کیتھولک چرچ کے سربراہ ہیں اور ان کا امن کے لیے آواز اٹھانا اور ہر قسم کی جنگ کی مذمت کرنا صحیح اور معمول کی بات ہے۔”
