بندوقوں کی گھن گرج کے درمیان سفارتی کوششیں جاری
اسلام آباد: پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی میعاد ختم ہونے سے قبل نئی مذاکراتی کوششوں کے لیے ایک بار پھر اپنی خدمات پیش کردی ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق، پاکستانی حکام نے دونوں ممالک کو اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کی تجویز دی ہے۔
مذاکراتی عمل میں تیزی
دو پاکستانی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ تجویز اس بات پر منحصر ہے کہ دونوں فریق متبادل مقام پر بات چیت کو ترجیح دیتے ہیں یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے ہونے والی مذاکرات محض ایک بار کی کوشش نہیں تھیں بلکہ مسلسل جاری سفارتی عمل کا حصہ ہیں۔
پہلے دور مذاکرات کا نتیجہ
گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی تھی۔ تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہنے والے اس دور کے بعد وینس نے کہا تھا کہ معاہدہ طے نہیں پاسکا، تاہم پاکستانی حکام اسے براہ راست بات چیت کا اہم موقع قرار دے رہے ہیں۔
خفیہ رابطوں کا سلسلہ
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میٹنگ کے بعد بھی دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری ہیں اور ممکنہ طور پر جمعرات کو نئے دور مذاکرات کا انعقاد ہوسکتا ہے۔ سفارتی حلقوں میں اسلام آباد اور جنیوا دونوں مقامات پر غور کیا جارہا ہے۔
تنازعے کی تاریخ
یہ تنازعہ 28 فروری کو امریکی-اسرائیلی مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہوا تھا جس کے نتیجے میں 2,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ ایران نے ہرمز کے آبنائے میں جہاز رانی میں رکاوٹیں اور امریکی-اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنا کر جوابی کارروائی کی تھی۔
دونوں فریقوں کے مطالبات
- امریکہ کا 15 نکاتی فریم ورک جس میں جوہری و میزائل امور، پابندیوں میں نرمی اور بحری سلامتی شامل ہے
- ایران کا 10 نکاتی منصوبہ جس میں وسیع پیمانے پر پابندیاں ہٹانے اور اہم آبی گزرگاہوں پر زیادہ کنٹرول کا مطالبہ شامل ہے
بین الاقوامی ردعمل
بین الاقوامی برادری نے پاکستان کی “اسلام آباد مذاکرات” کی میزبانی اور مکالمے کو آسان بنانے کے کردار کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کو ممکنہ معاہدے کی طرف رفتار برقرار رکھنے کے لیے کلیدی سمجھا جارہا ہے۔
آئندہ راستہ
امریکی حکام کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان مسلسل رابطے جاری ہیں اور ممکنہ معاہدے کی طرف پیش رفت ہورہی ہے۔ نائب صدر وینس نے ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ “کافی پیش رفت” ہوئی ہے اور اب اگلا قدم ایران پر منحصر ہے۔
