بدھیسٹ۔ ہنگری میں آج ہونے والے اہم پارلیمانی انتخابات سے قبل ایک فرانسیسی جیو پولیٹیکل تجزیہ کار نے سوشل میڈیا پر ایک خفیہ اثر اندازی مہم کا پردہ فاش کیا ہے، جس کا مقصد موجودہ وزیر اعظم وکٹر اوربان کے حق میں ووٹرز کو متاثر کرنا بتایا جا رہا ہے۔
لنکڈ ان پر پیشکش: 450 ڈالر میں ایک پوسٹ
لوئس ڈوکلو، جو یوکرین روس جنگ پر باقاعدہ تجزیے پیش کرتے ہیں، نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر دعویٰ کیا کہ ایک نوجوان خاتون نے انہیں لنکڈ ان پر رابطہ کرتے ہوئے ہنگری کی حزب اختلاف کی ایک سیاستدان کے خلاف ایک طویل پیغام پوسٹ کرنے کی پیشکش کی۔ انہوں نے اس کے بدلے میں 450 ڈالر کی ادائیگی کی بات کی۔
ڈوکلو کے مطابق، یہ مہم ایک نامعلوم کلائنٹ کے لیے آئیوان گری نامی شخص چلا رہا ہے، اور رابطہ کرنے والی خاتون شاید بھارت سے تعلق رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “اس کا مقصد ووٹرز کو ہیرا پھیری کر کے وکٹر اوربان کو فائدہ پہنچانا تھا۔”
16 سالہ حکمرانی کا فیصلہ کن موڑ
یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا ہے جب ہنگری کے ووٹر 12 اپریل کو پارلیمانی انتخابات میں اپنا ووٹ ڈالیں گے۔ وزیر اعظم وکٹر اوربان، جو گذشتہ 16 سال سے ملک پر حکمرانی کر رہے ہیں، اس بار پرو یورپی قدامت پسند پیٹر میگیار اور ان کی پارٹی تیزا سے سخت مقابلے کا سامنا کر رہے ہیں۔
اوربان، جنہیں غیر لبرل اور آمرانہ حکمران سمجھا جاتا ہے، ماسکو کے قریب سمجھے جاتے ہیں اور فرانس کی نیشنل رالی پارٹی کے بھی اتحادی ہیں۔
بین الاقوامی رد عمل اور معلوماتی جنگ
فرانس کے سفیر ایٹین ڈی پونسنز نے اس انکشاف کو “نہایت دلچسپ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بدنامی اور غلط معلومات کی مہمات کے طریقہ کار کو سمجھنے میں مددگار ہے۔
یہ واقعہ اس سے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جب این جی او الائنس فار یورپ نے وکٹر اوربان کی حمایت میں سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی اثر اندازی کی کارروائیوں کی مذمت کی تھی۔ انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں یہ انکشاف ہنگری میں جمہوری عمل پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہا ہے۔
