وال اسٹریٹ جرنل کے خلاف ہزیمت
واشنگٹن — ایک وفاقی جج نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 10 ارب ڈالر کے ہرجانے کے مقدمے کو مسترد کر دیا ہے جو انہوں نے وال اسٹریٹ جرنل کے خلاف اس الزام پر دائر کیا تھا کہ اخبار نے جیفری ایپسٹین کے نام ان کے 2003 کے ایک مبینہ خط کو غلط طریقے سے شائع کیا تھا۔
عدالت کا فیصلہ
جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ٹرمپ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ اخبار نے “حقیقی بد نیتی” کے ساتھ کام کیا۔ امریکی قانون کے تحت، کسی عوامی شخصیت کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ کامیاب ہونے کے لیے یہ ثبوت ضروری ہے کہ پبلشر کو معلوم تھا کہ معلومات غلط ہیں یا انہوں نے جان بوجھ کر حقائق کو نظر انداز کیا۔
اخباری اصولوں کا پاس
عدالت نے اس بات کو بھی نوٹ کیا کہ وال اسٹریٹ جرنل نے اشاعت سے پہلے ٹرمپ کی ٹیم سے رابطہ کیا تھا اور ان کے رد عمل کو کہانی میں شامل کیا تھا۔ جج کے مطابق، یہ عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اخبار نے قارئین کو دھوکہ دینے کی کوئی کوشش نہیں کی۔
مقدمے کا مستقبل
اگرچہ موجودہ دعویٰ خارج کر دیا گیا ہے، لیکن ٹرمپ کو نئے اور مضبوط ثبوتوں کے ساتھ مقدمہ دوبارہ دائر کرنے کا حق حاصل ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ کے حلقے نے پہلے ہی اعلان کر دیا ہے کہ وہ ایک نئی قانونی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں۔
اخبار کا رد عمل
وال اسٹریٹ جرنل کے مالک ڈاؤ جونز گروپ نے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ایک بیان میں، ادارے نے کہا کہ یہ فیصلہ ان کے صحافتی معیار اور معلومات کی جانچ پڑتال کے عمل کی تصدیق کرتا ہے۔
ٹرمپ کی قانونی مہم
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ اپنی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے الزام میں متعدد میڈیا اداروں کے خلاف مقدمات دائر کر رہے ہیں۔ تاہم، حالیہ ہفتوں میں ان کی قانونی کوششوں کو متعدد عدالتی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں سے زیادہ تر ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے ہیں۔
