ماہواری کے تحفظ کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور خواتین
فرانس میں 23 لاکھ سے زائد خواتین باقاعدگی سے ماہواری کے دوران استعمال ہونے والی حفظانِ صحت کی مصنوعات، جیسے کہ پیڈز یا ٹیمپونز، سے محروم ہیں۔ یہ تعداد ملک کی کل خواتین آبادی کا 13 فیصد بنتی ہے۔ یہ ہولناک اعداد و شمار نومبر 2025 میں ‘ڈونس سولیڈیئرز’ نامی فلاحی ادارے کے لیے کی گئی ایک نئی تحقیق میں سامنے آئے ہیں۔
صابن سے لے کر پیڈز تک: ‘لگژری’ بنتے ضروری سامان
تحقیق کے مطابق صابن، ٹوتھ پیسٹ، ڈیوڈرنٹ اور ماہواری کے پیڈز جیسی بنیادی ضروریات اب لاکھوں فرانسیسی شہریوں کے لیے ‘لگژری آئٹمز’ بن چکے ہیں۔ ‘ایف او پی’ انسٹی ٹیوٹ کے سروے سے پتہ چلا ہے کہ مالی مجبوریوں کے باعث تقریباً 40 لاکھ فرانسیسی شہری ان ضروری حفظانِ صحت کی مصنوعات کو خریدنے سے قاصر ہیں۔
پرانی ٹی شرٹ سے کام چلانے والی ماؤں کی کہانی
48 سالہ نورا، جو دو بچوں کی تنہا ماں ہیں، نے اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا، “ایک بار میری بیٹی کو ماہواری آئی لیکن میرے پاس اس کے لیے پیڈز خریدنے کے پیسے نہیں تھے۔ مجبوراً میں نے ایک پرانی ٹی شرٹ پھاڑی اور اسے کچھ دیر کے لیے اسی سے کام چلانے کو کہا جب تک کہ ہم کوئی حل نہ ڈھونڈ لیں۔” مونٹریئل کی رہائشی نورا کی کہانی اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتی ہے۔
یک والدین خاندانوں پر سب سے زیادہ دباؤ
سروے کے نتائج کے مطابق نورا جیسے 60 فیصد یک والدین خاندان مالی مشکلات کی وجہ سے حفظانِ صحت کی مصنوعات کی خریداری میں کٹوتی کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ شرح مجموعی فرانسیسی آبادی میں صرف 43 فیصد ہے۔
خوراک یا صابن؟ لاکھوں فرانسیسیوں کا روزانہ کا فیصلہ
تحقیق میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ہر دو میں سے ایک فرانسیسی شہری نے مالی وجوہات کی بنا پر حفظانِ صحت کی مصنوعات کی خریداری میں کمی کی ہے۔ محنت کش طبقے کے 42 فیصد افراد کو کبھی نہ کبھی خوراک اور حفظانِ صحت کی مصنوعات کے درمیان انتخاب کرنا پڑا ہے۔ مجموعی طور پر یہ تعداد 80 لاکھ فرانسیسی شہریوں تک پہنچتی ہے۔
معاشرتی زندگی پر تباہ کن اثرات
بنیادی حفظانِ صحت کی مصنوعات تک رسائی نہ ہونے کے اثرات معاشرتی زندگی پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
- 46 فیصد متاثرہ افراد کا خود اعتمادی متاثر ہوا ہے۔
- 33 فیصد افراد گھروں میں محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔
- 28 فیصد نے دوستوں یا رومانوی ملاقاتوں سے انکار کر دیا ہے۔
- 25 فیصد نے کھیلوں کی سرگرمیوں سے دستبردار ہو گئے ہیں۔
بچوں کی پرورش پر والدین کے احساسِ جرم میں اضافہ
تحقیق میں چھوٹے بچوں والے والدین کی جدوجہد کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ 19 فیصد والدین نے مالی مشکلات کے باعث اپنے بچوں کے لیے ڈائپرز خریدنے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ 18 فیصد نے گھریلو طریقوں سے ‘ہینڈ میڈ’ ڈائپرز تیار کیے ہیں۔ ان مجبوریوں کے نتیجے میں 63 فیصد والدین خود کو ‘برے والدین’ سمجھنے لگے ہیں۔
قانونی وعدوں کے باوجود ماہواری کی مصنوعات مفت نہیں
حکومت کی جانب سے تین سال قبل ماہواری کی حفظانِ صحت کی مصنوعات کی مفت فراہمی کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن ‘ریگلیز ایلیمینٹیرز’ نامی تنظیم کے مطابق یہ وعدہ اب تک پورا نہیں ہو سکا ہے۔ اس صورتحال نے غریب خواتین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
غربت کے خلاف گھریلو حل
46 سالہ گیلیسی، جو چار بچوں کی ماں ہیں، نے اپنے حالات کے مطابق ڈھلنے کے لیے متبادل راستے تلاش کیے ہیں۔ وہ گھر پر ہی صابن اور بیکنگ سوڈا سے اپنا خود کا واشنگ پاؤڈر تیار کرتی ہیں، اور اپنی نوعمر بیٹیوں کو ‘پتھر کے الوم’ سے قدرتی اور سستا ڈیوڈرنٹ بنانا سکھا رہی ہیں۔ یہ گھریلو حل انہیں مہنگی مصنوعات پر انحصار کم کرنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حفظانِ صحت کی بنیادی مصنوعات تک رسائی انسانی حقوق کا ایک اہم مسئلہ ہے، اور اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
