صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد سفارتی کوششیں تیز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے رہنما جمعرات کے روز براہ راست بات چیت کریں گے۔ یہ بات چیت 34 سال بعد ہونے والی پہلی اعلی سطحی رابطہ کاری ہوگی۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر لکھا کہ “ہم اسرائیل اور لبنان کے درمیان تھوڑی سی راحت پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
لبنانی حکومت کی جانب سے ابتدائی انکار اور اسرائیلی تصدیق
ٹرمپ کے اعلان کے فوراً بعد لبنانی حکام نے کہا کہ انہیں اس طرح کے کسی بھی منصوبے کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔ تاہم اسرائیلی وزیر برائے اختراع گلا گملائل نے فوجی ریڈیو کو بتایا کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف آؤن کے درمیان بات چیت ہوگی۔ گملائل نے اسے “ایک تاریخی عمل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد حزب اللہ کے خطرے کا خاتمہ ہے۔
جنگ کی تباہ کاریاں اور فوری جنگ بندی کی اپیل
یہ سفارتی پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 2 مارچ سے جاری جنگ میں اب تک لبنان میں 2,000 سے زائد اموات ہو چکی ہیں اور دس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ حزب اللہ نے جمعرات کی صبح شمالی اسرائیل میں ڈرون حملوں کا اعتراف کیا۔ لبنانی سفیر نداء حماد معوض نے امریکہ میں ہونے والی مذاکرات میں فوری جنگ بندی کی اہمیت پر زور دیا۔
امریکی موقف اور علاقائی پیچیدگیاں
ایک نامعلوم اعلیٰ امریکی عہدے دار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ لبنان میں جنگ بندی کو خوش آئند سمجھیں گے لیکن امریکہ نے اسرائیل پر فوری جنگ بندی کے لیے دباؤ نہیں ڈالا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ ممکنہ معاہدہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری وسیع تر خطائی مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگا۔ حزب اللہ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والی بات چیت کو “ہتھیار ڈالنے” کے مترادف قرار دیا ہے۔
مستقبل کے امکانات اور چیلنجز
یہ مذاکرات 1993 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی براہ راست رابطہ کاری ہیں۔ اگرچہ دونوں فریقوں نے بات چیت پر اتفاق کیا ہے، لیکن لبنان فوری جنگ بندی پر زور دے رہا ہے جبکہ اسرائیل نے اب تک اسے مسترد کیا ہے۔ علاقائی امن کے لیے یہ بات چیت ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، لیکن حزب اللہ کی مخالفت اور گہرے سیاسی اختلافات بڑی رکاوٹیں ہیں۔
