واشنگٹن ڈی سی کے نیشنل مال پر واقع واشنگٹن مونومنٹ کے قریب گھاس پر نمودار ہونے والے پراسرار اعداد “86 47” نے امریکی دارالحکومت میں قیاس آرائیوں اور سیکیورٹی خدشات کا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ یہ تحریر، جسے حکام نے توڑ پھوڑ کا فعل قرار دیا ہے، جمعرات کو اس وقت مرکزِ نگاہ بنی جب امریکی پارک پولیس نے اس کی باقاعدہ تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا۔
آرگن کوڈ یا براہِ راست خطرہ؟ “86 47” کے پوشیدہ معنی
ان اعداد کی اہمیت ان کے خفیہ مفہوم میں پوشیدہ ہے۔ اصطلاح “86” امریکی بول چال میں “کسی سے نجات پانا” یا “باہر نکال دینا” کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ جبکہ “47” کی تشریح ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کے 47ویں صدر ہونے کے حوالے سے کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق، اگرچہ 8، 6 اور 7 کے ہندسے واضح طور پر دکھائی دے رہے تھے، لیکن گھاس کی رنگت میں تبدیلی کے باعث چوتھا ہندسہ 4 اتنا نمایاں نہیں تھا، تاہم مجموعی پیغام کو ٹرمپ کے خلاف ایک مبینہ علامتی اظہارِ دشمنی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس اور حکام کا سخت ردعمل
نیشنل پارک پولیس کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں یہ اطلاع صبح کے وقت ملی کہ “واشنگٹن اوبلیسک کے مغربی لان میں توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔ گھاس میں ‘8647’ کے اعداد بنائے گئے تھے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “گھاس کی رنگت اڑنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی” اور اس حوالے سے تجزیہ جاری ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس انگل نے اس فعل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا: “جو بھی سیاسی تشدد یا قتل کی ثقافت میں ملوث ہے، یا اس کی حمایت کرتا ہے، اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے۔” انہوں نے طنزیہ لہجے میں یہ بھی کہا کہ ایسے افراد کو فوری طور پر کسی ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ ان کے “شدید اور معذور کر دینے والے ٹرمپ ڈیرینجمنٹ سنڈروم” کا علاج ہو سکے۔
محکمہ داخلہ کی دھمکی: “ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے”
امریکی محکمہ داخلہ کے ترجمان نے بھی ایک بیان میں اسے “ناقابلِ برداشت توڑ پھوڑ” قرار دیا اور خبردار کیا: “محکمہ صدر کے خلاف کسی بھی قسم کی دھمکی کو انتہائی سنجیدگی سے لیتا ہے، اور پارک پولیس اس واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لائے گی۔”
جیمز کومی سے لے کر احتجاجی پرچم تک: “86 47” کی متنازع تاریخ
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب “86 47” کی علامت نے امریکی سیاسی منظرنامے پر ہلچل مچائی ہو۔ ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومی، جو ٹرمپ کی تنقید کا خاص نشانہ رہے ہیں، پر اپریل میں اس وقت فردِ جرم عائد کی گئی تھی جب انہوں نے سمندر کے کنارے سیپیوں سے “86 47” کا پیغام بنا کر سوشل میڈیا پر تصویر پوسٹ کی۔ استغاثہ کے مطابق، یہ تصویر “ایک سنگین دھمکی” کے مترادف تھی۔
تاہم، ایک وفاقی جج نے حال ہی میں ایک مختلف مقدمے میں اس کے برعکس فیصلہ سناتے ہوئے آزادیِ اظہار کی بنیاد پر پولیس کو ایک احتجاجی پرچم ہٹانے سے روک دیا جس پر “86 47” لکھا تھا۔ جج نے اپنے فیصلے میں استدلال کیا کہ “86” کا لفظ قتل کے بجائے “کسی کو نکال باہر کرنے” کے لیے کہیں زیادہ عام استعمال ہوتا ہے، اور یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ایک معقول مبصر اسے حقیقی خطرہ کیسے تصور کر سکتا ہے۔
یہ واقعہ امریکہ میں سیاسی تقسیم اور آزادیِ اظہار کی حدود پر ایک بار پھر بحث کو ہوا دے رہا ہے، جبکہ حکام اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا گھاس پر بنے یہ اعداد محض ایک علامتی احتجاج تھے یا پھر کوئی سنگین سیکیورٹی خطرہ۔
