پیرس: سنہ 2023 میں ٹریفک روکنے کے دوران پولیس کی گولی سے ہلاک ہونے والے نوجوان ناحل معرزوق کے معاملے نے ایک نیا موڑ اختیار کر لیا ہے۔ فرانس کی محتسبِ حقوق، کلیئر ایڈون نے جمعہ کے روز اپنی تحقیقات کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے اس المناک واقعے کو پولیس کی جانب سے ‘پیشہ ورانہ اخلاقیات کی سنگین خلاف ورزی’ قرار دیا ہے۔
اس آزاد انتظامی اتھارٹی نے وزارتِ داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کارروائی میں ملوث پولیس افسران، خصوصاً فائرنگ کرنے والے افسر کے خلاف تادیبی کارروائی کا آغاز کرے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اسلحے کا استعمال ‘مطلقاً ناگزیر’ نہیں تھا۔
پولیس کا تعاقب ‘قواعد کی خلاف ورزی’ تھا
27 جون 2023 کو نانتیغ کے علاقے میں 17 سالہ ناحل معرزوق کو قریب سے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پولیس تشدد کی علامت بننے والی اس موت نے پورے فرانس میں ہنگاموں کو جنم دیا تھا۔ محتسب کے مطابق، جس نے ازخود نوٹس لے کر اس کیس کی تحقیقات کیں، اس روز گاڑی کا تعاقب شروع کرنے کا فیصلہ ہی اس وقت کے رہنما اصولوں کے خلاف تھا۔
39 صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں، جسے اخبار لے موندے نے شائع کیا، کلیئر ایڈون نے دونوں ملوث پولیس افسران کی جانب سے ‘اطاعت اور سمجھداری’ کے قواعد سمیت متعدد کوتاہیوں کا ذکر کیا ہے۔
فائرنگ ‘متناسب’ نہیں تھی، ماہرین
جب پولیس افسران ناحل کی پولینڈ میں رجسٹرڈ مرسڈیز کے قریب پہنچے تو ان میں سے ایک نے ہاتھ میں اسلحہ لیے گاڑی کے اندر جھک کر ایسی حرکات کیں جو ‘سیکھائے گئے حفاظتی اور مداخلتی تکنیکی اصولوں کے مطابق نہیں’ تھیں۔
محتسب نے عینی شاہدین کے بیانات، ویڈیوز اور حادثاتی تجزیے کی ماہرانہ رپورٹوں کی بنیاد پر اندازہ لگایا کہ جب نوجوان نے ‘کم رفتار’ سے گاڑی دوبارہ اسٹارٹ کی تو اس سے ‘ایجنٹوں کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں تھا، کیونکہ وہ گاڑی کی زد میں نہیں تھے’۔
آزاد اتھارٹی کا کہنا ہے: “وہ سمجھتی ہیں کہ اسلحے کا استعمال مطلقاً ناگزیر نہ تھا اور نہ ہی متناسب تھا۔” فیصلے میں نتیجہ اخذ کیا گیا: “پیشہ ورانہ اخلاقیات کی تمام تر پائی جانے والی خلاف ورزیوں کے پیش نظر، وہ وزیر داخلہ سے رجوع کرتی ہیں تاکہ وہ ہر ایجنٹ کے خلاف تادیبی کارروائی کا آغاز کریں۔”
مقتول کے اہل خانہ کا شدید ردعمل
ناحل کی والدہ، مونیا معرزوق کی وکیل نے اس رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے پولیس افسران کو ملنے والے ‘تحفظ’ کی مذمت کی۔ فرینک بیرٹن نے اے ایف پی کو بتایا: “یہ رپورٹ وزیر داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے پولیس افسران کے خلاف تادیبی کارروائی نہ ہونے پر حیرانی کا اظہار کرتی ہے، جو ان کے مطابق بہت پہلے شروع ہو جانا چاہیے تھا۔”
انہوں نے مزید کہا: “یہ ایک بار پھر کچھ پولیس اہلکاروں کے لیے غیر معمولی تحفظ کا مظاہرہ ہے جنہوں نے سنگین کوتاہیاں اور غلطیاں کی ہیں۔”
اہل خانہ کی نمائندگی کرنے والی ایک اور وکیل مارگو پگلیز نے بتایا: “اہل خانہ کو اس بات پر شدید صدمہ پہنچا کہ فائرنگ کرنے والے پولیس افسر کو اس کے اعلیٰ افسران نے کبھی سزا نہیں دی بلکہ الٹا اس کی حمایت کی گئی اور اسے بحال کر دیا گیا۔”
عدالتی معاملے میں تازہ موڑ
دوسری جانب، اس کیس کی عدالتی کارروائی میں بھی گزشتہ ہفتے ایک نیا ڈرامائی موڑ آیا۔ فرانس کی اعلیٰ ترین عدالت، کور ڈی کاسیشن نے فائرنگ کرنے والے پولیس افسر کے خلاف الزامات کو تشدد سے بدل کر دوبارہ قتل کے زمرے میں لانے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ یہ مقدمہ اب ورسائی کی اپیل کورٹ کو بھیج دیا گیا ہے، جو اس افسر کے خلاف عائد الزامات پر دوبارہ فیصلہ کرے گی۔
تاہم، اعلیٰ عدالت نے کارروائی کے دوران موجود دوسرے پولیس افسر کو بری کرنے کے فیصلے کی توثیق کی ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے اس رپورٹ پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
