پیرس میں جاری یورپ کے سب سے بڑے ٹیکنالوجی میلے ویوا ٹیک میں بدھ کے روز اس وقت ایک غیر متوقع منظر دیکھنے میں آیا جب مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی ایک شاندار نمائش اچانک ایک یادگار حادثے میں بدل گئی۔ جنوبی کوریا کی کمپنی ری بلڈر اے آئی کے اسٹال پر دو انسان نما روبوٹس اپنی مطابقت پذیر حرکات سے ناظرین کو محظوظ کر رہے تھے، لیکن چند ہی لمحوں میں یہ تکنیکی مظاہرہ افراتفری کا منظر پیش کرنے لگا۔
پردے کے پیچھے بڑھتے قدم اور پھر تباہی
یونٹری جی 1 ماڈل کے یہ جدید روبوٹس، جو پیچیدہ حرکات، دوڑنے اور چلنے کی صلاحیت کے لیے مشہور ہیں، اپنی کوریوگرافی کے دوران دھیرے دھیرے اسٹال کے عقب کی جانب کھسکتے چلے گئے۔ اس دوران ان کی پشت پر نصب کمپنی کی 3D ڈیجیٹائزیشن اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی دکھانے والی بڑی ایل ای ڈی اسکرینیں ان کی زد میں آ گئیں۔ روبوٹس کے مسلسل پیچھے ہٹنے سے اسکرینوں کے اسٹینڈز ٹکرا کر اکھڑ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی قیمتی ڈسپلے یکے بعد دیگرے فرش پر گر کر تباہ ہو گئے۔
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل، قہقہے اور حیرت
اس پورے منظر کو حاضرین میں سے کسی نے اپنے موبائل فون میں قید کر لیا اور یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسکرینوں کے گرنے کی آواز پر پہلے تو تماشائیوں میں خوف اور تشویش کی لہر دوڑ گئی، لیکن جیسے ہی صورتحال واضح ہوئی، ان کے چہروں پر مسکراہٹیں پھیل گئیں اور پورا پنڈال قہقہوں سے گونج اٹھا۔ یہ ویڈیو اس بات کی غماز ہے کہ کس طرح جدید ترین ٹیکنالوجی بھی بعض اوقات غیر متوقع طور پر ناکام ہو سکتی ہےروبوٹکس کی ترقی کا استعاراتی لمحہ
یونٹری جی 1 جیسے ہیومنائیڈ روبوٹس حالیہ برسوں میں روبوٹکس کی صنعت میں انقلاب کی علامت بن کر ابھرے ہیں۔ ویوا ٹیک جیسے عالمی میلوں میں ان کی رقص، کھیل اور توازن کی حیران کن مظاہرے اس شعبے کی ترقی کو ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم، ماہرین کے مطابق یہ چھوٹا سا حادثہ اس حقیقت کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ خودکار نظاموں میں ماحولیاتی آگاہی اور حقیقی دنیا کے غیر متوقع حالات سے نمٹنے کی صلاحیت ابھی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
ری بلڈر اے آئی کے اسٹال پر پیش آنے والا یہ واقعہ کسی انسانی یا مالی نقصان کا باعث تو نہیں بنا، لیکن یہ یقینی طور پر ویوا ٹیک 2025 کی سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والی جھلکیوں میں سے ایک بن گیا ہے، جس نے جدید ٹیکنالوجی کے شائقین کو بیک وقت محظوظ اور حیران کر دیا۔
