امریکی نائب صدر کی پاکستانی قیادت سے ملاقات، امن کوششوں پر گفتگو
سوئٹزرلینڈ میں جاری امریکہ-ایران مذاکرات کے درمیان وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران نائب صدر وینس نے ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے میں پاکستان کے کردار کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے کہا، ’ہم پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔‘
مذاکرات کا پہلا دور مکمل، ایٹمی پروگرام زیر بحث نہیں آیا
خبر رساں اداروں کے مطابق، ’لیک لوسرن سربراہی اجلاس‘ کے نام سے مشہور تکنیکی سطح کے مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوگیا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے واضح کیا کہ اس 80 منٹ طویل نشست میں ایران کے جوہری پروگرام پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ مذاکرات کا فوکس اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد اور لبنان کی صورتحال پر مرکوز رہا۔
ایرانی مذاکرات کار کا اہم بیان: ’پابندیوں میں چھوٹ جلد جاری کی جائے گی‘
ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ ایرانی تیل پر پابندیوں میں نرمی سے متعلق ایک مسودہ حتمی شکل اختیار کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ چھوٹ جلد جاری کردی جائے گی۔ دریں اثنا، ایرانی قومی تیل کمپنی کے سربراہ حامد بوورد نے بتایا کہ پیر سے اب تک 25 ملین بیرل سے زائد ایرانی تیل مجازی ناکہ بندی لائن سے گزر چکا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف: ایرانی قیادت علاقائی امن کے لیے مخلص ہے
وزیراعظم شہباز شریف نے برگن اسٹاک میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور ایرانی قیادت خطے میں امن کے لیے مخلص ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی امن پسند شخصیت قرار دیا۔
ٹرمپ کی دھمکی، ایران کا جواب: ’بیانات میں محتاط رہیں‘
ادھر، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے ’لبنان میں اپنی پراکسیز‘ نہ روکیں تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس کے جواب میں ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ امریکہ کو اپنے بیانات میں محتاط رہنا چاہیے اور تہران جوابی کارروائی کے لیے تیار ہے۔
لبنان جنگ بندی نازک، فریقین چوکس
>لبنان میں جمعے سے نافذ جنگ بندی کے باوجود صورتحال کشیدہ ہے۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال ضمیر نے کہا کہ جنگ بندی نازک ہے اور فورسز کو ممکنہ کارروائی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ دوسری جانب، حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے واضح کیا کہ اسرائیل لبنان میں نہیں رہے گا اور کسی بھی خلاف ورزی پر جواب دیا جائے گا۔
