امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے لبنان میں اپنے پراکسیز کو ‘فتنہ’ بند نہ کروایا تو گزشتہ ہفتے کی ‘بہت سخت’ حملہ کیا جائے گا۔ یہ دھمکی اس وقت سامنے آئی ہے جب سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ “ایران کو فوری طور پر لبنان میں اپنے مہنگے پراکسیز کو فتنہ بند کرنے کا حکم دینا چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا: “اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ہم ایران کو پھر سے بہت سخت نشانہ بنائیں گے، بالکل گزشتہ ہفتے کی طرح، مگر اس بار زیادہ سختی سے!!!”
آبنائے ہرمز کی بندش پر ایران کا مؤقف
دوسری جانب ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جب تک لبنان میں جنگ بندی کا احترام نہیں کیا جاتا، آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق یہ آبی گزرگاہ اس وقت تک بند رہے گی جب تک ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دینے والی چھوٹ جاری نہیں کر دی جاتی۔
آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے اور یہ متحارب ممالک کے درمیان مذاکرات کا مرکزی نقطہ ہے۔ ایرانی فوج نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام اسرائیل پر لگاتے ہوئے اسے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔>
جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے واضح کیا کہ لبنان میں خطرات کو ختم کرنے کے لیے اسرائیلی فوجیوں پر کوئی پابندی نہیں ہے اور فوج سکیورٹی زون میں اپنی پوزیشنوں پر تعینات ہے۔ لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی این این اے کے مطابق ہفتے کو اسرائیلی حملوں میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے، یہ حملے حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے اگلے روز کیے گئے۔
اسرائیل کا کہنا تھا کہ یہ حملے جنوبی لبنان میں اس کی فوج پر ایران کے حمایت یافتہ گروپ کی جانب سے داغے گئے راکٹوں کا جواب تھے، جس کے بعد ‘حزب اللہ کے ٹھکانوں’ کو نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان کی ثالثی میں سوئٹزرلینڈ مذاکرات کا آغاز
سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے وفود کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات شروع ہو گئے ہیں، جس میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں جبکہ اس میں خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔ ایرانی وفد میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی موجود ہیں۔
مذاکرات سے قبل امریکی وفد نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی، جس کے بعد ایرانی وفد نے بھی پاکستانی قیادت سے ملاقات کی۔ نائب صدر وینس نے پاکستانی قیادت کے ثالثانہ کردار کو سراہا اور کہا کہ ان کے کردار کو دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
وینس نے کہا: “تکنیکی مذاکرات شاید ہر اختلاف کو حل نہ کر پائیں، لیکن یہ ہمیں تاریخ میں پہلی بار ٹیموں کے طور پر ایک ساتھ بیٹھنے کا موقع فراہم کریں گے۔” انوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ ایک مکمل علاقائی جنگ بندی دیکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔
ایرانی حکام نے کہا ہے کہ لبنان، امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کا مرکزی نقطہ ہے یہ مذاکرات اس فریم ورک کے تحت ہو رہے ہیں جس پر واشنگٹن اور تہران نے فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ کو روکنے کے لیے دستخط کیے تھے۔
