ایرانی ٹیم کا اپنے مداحوں اور میزبان شہر کے نام پرخلوص پیغام
انگل ووڈ، کیلیفورنیا: فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ جی کے اہم مقابلے میں بیلجیئم کے خلاف گول سے محروم ڈرا کھیلنے کے بعد ایرانی قومی فٹ بال ٹیم نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے اپنے لاکر روم میں ایک ہاتھ سے لکھا ہوا شکریے کا خط چھوڑا۔ اتوار کو صوفی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ کے بعد چھوڑے گئے اس پیغام میں لاس اینجلس کی مہمان نوازی کو سراہا گیا اور کہا گیا کہ ٹیم “وقار کے ساتھ” واپس جا رہی ہے۔ اس ڈرا نے ایران کی ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچنے کی امیدوں کو زندہ رکھا ہے۔
ایرانی ٹیم نے اپنے دونوں گروپ میچ لاس اینجلس میں کھیلے ہیں، لیکن امریکہ میں قیام سے متعلق پابندیوں کے باعث انہوں نے میچوں کے درمیان میکسیکو کے شہر تیجوانا میں قیام کیا اور وہاں سے امریکہ آمدورفت جاری رکھی۔ ایرانی ٹیم کے متعدد اسٹاف اور عہدیداروں پر بھی پابندیاں عائد ہیں۔ امریکی حکام نے بتایا ہے کہ اسکواڈ کے سفری انتظامات کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور کچھ پابندیوں میں نرمی پر بات چیت جاری ہے۔
ایران کی فٹ بال فیڈریشن کی جانب سے جاری کیے گئے اس ہاتھ سے لکھے گئے خط میں درج تھا: “ہزاروں سال پہلے کے قدیم فارس سے لے کر آج کے مہذب ایران تک، ایران کی روح زندہ اور ثابت قدم ہے۔”
خط میں مزید لکھا گیا: “لاس اینجلس، آپ کی مہمان نوازی کا شکریہ۔ ہم فخر کے ساتھ لاس اینجلس آئے، عزت کے ساتھ مقابلہ کیا، اور وقار کے ساتھ جا رہے ہیں۔” اس پیغام میں ان ایرانی حامیوں کا بھی شکریہ ادا کیا گیا جنہوں نے دونوں میچوں کے دوران ٹیم کے لیے اپنا “دل، آواز اور روح” پیش کی۔ خط کا اختتام تمام اقوام کے درمیان امن، احترام اور دوستی کی اپیل کے ساتھ ہوا۔
سفری پابندیوں پر ایرانی کوچ کی تنقید
ایران کے کوچ امیر قلعہ نویی نے ٹیم پر عائد سفری پابندیوں پر بار بار تنقید کی ہے، اور کہا ہے کہ ٹیم کو ایسے چیلنجز کا سامنا ہے جو کسی اور ٹیم کو برداشت نہیں کرنے پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حالات نے ٹیم کی تیاریوں کو متاثر کیا ہے۔
ایران نے اپنا پہلا گروپ میچ نیوزی لینڈ کے خلاف صوفی اسٹیڈیم میں 2-2 سے ڈرا کھیلا تھا۔ اب وہ اپنا آخری اور فیصلہ کن گروپ میچ مصر کے خلاف سیئٹل میں کھیلے گا، جہاں اسے ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنانے کے لیےہتر کارکردگی کی ضرورت ہوگی۔
