راولپنڈی: سیکیورٹی فورسز نے پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ ایک بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 29 فتنہ الخوارج دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ کارروائیاں آپریشن غضب الہٰی کے تسلسل میں کی گئیں، جن میں بھارتی پراکسی جماعت الاحرار کے اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، خیبر پختونخوا کے علاقے باجوڑ میں زمینی کارروائی کے دوران 4 عسکریت پسند مارے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں جماعت الاحرار کا ایک اعلیٰ قدر والا کمانڈر خان فاروش عرف زابل بھی شامل تھا، جسے بھارت کی حمایت یافتہ ایک اہم پراکسی کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
افغانستان کے اندر کیلیبریٹڈ اسٹرائیکس
آئی ایس پی آر کے بیان میں مزید کہا گیا کہ کامیاب آپریشنز افغانستان کے صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں بھی کیے گئے۔ ان کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے تین اہم ٹھکانے مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے، جس کے نتیجے میں 25 دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
یہ کارروائیاں حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے جواب میں کی گئی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے غیر ملکی عناصر کی سرپرستی میں چلنے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
کلیدی نکات
- باجوڑ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 4 دہشت گرد ہلاک، جن میں کمانڈر خان فاروش شامل۔
- افغانستان کے تین صوبوں میں کارروائی، 3 ٹھکانے تباہ اور 25 عسکریت پسند مارے گئے۔
- ہلاک ہونے والوں کا تعلق بھارتی پراکسی جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج سے تھا۔
- آپریشنز کا مقصد ملک بھر میں حالیہ دہشت گردی کی لہر کا منہ توڑ جواب دینا ہے۔
