اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے منگل کے روز آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ترمیمی آرڈیننس 2026 پر دستخط کر دیے۔ یہ اقدام وزیراعظم کے مشورے پر اٹھایا گیا، جس کا باضابطہ اعلان صدر ہاؤس کے ایک بیان میں کیا گیا۔
آرڈیننس کا دائرہ کار اور اہم تبدیلیاں
جاری کردہ آرڈیننس کے تحت اوگرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 2 اور سیکشن 3 میں ترامیم متعارف کروائی گئی ہیں۔ یہ ترامیم توانائی کے شعبے میں ریگولیٹری فریم ورک کو مزید مؤثر بنانے کے لیے لائی گئی ہیں، تاہم ان ترامیم کی تفصیلی نوعیت کے بارے میں فوری طور پر مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
پس منظر اور قانونی حیثیت
یہ آرڈیننس ایک اہم قانونی پیش رفت ہے جو پاکستان کے تیل اور گیس کے شعبے کے ضابطہ کار ادارے کے اختیارات اور دائرہ کار میں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ آئین کے تحت صدر مملکت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ وزیراعظم کی سفارش پر، جب پارلیمنٹ کا اجلاس نہ ہو، فوری قانون سازی کی ضرورت کے پیش نظر آرڈیننس جاری کر سکیں۔
ماہرین کے مطابق، اس طرح کی ترامیم کا مقصد عموماً ریگولیٹری نظام میں بہتری لانا اور توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے انتظامی ڈھانچے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوتا ہے۔
