اسلام آباد: پاکستان نے منگل کو سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے پانی کے حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ معاہدہ محض پانی کی تقسیم کا ایک دستاویز نہیں بلکہ ملک کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کی ضمانت ہے۔ یہ مؤقف اسلام آباد میں منعقدہ ایک بین الاقوامی سیمینار میں سامنے آیا جس کا عنوان “سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک اہم ذریعہ” تھا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پانی پاکستان کے لیے صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے جناح کنونشن سینٹر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ سندھ طاس معاہدہ علاقائی امن کا ضامن ہے اور وادی سندھ کی تہذیب پاکستانی قوم کی اصل شناخت ہے۔
پانی کی اہمیت اور تاریخی پس منظر
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کئی حوالوں سے دریائے سندھ کی تاریخ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھ دہائیوں قبل پاکستان اور بھارت نے ایک غیر معمولی فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں دنیا کے سب سے پائیدار پانی کی تقسیم کے معاہدوں میں سے ایک وجود میں آیا۔ عطاء تارڑ نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان کا پانی روکنے کی کوئی بھی کوشش کی گئی تو ملک کی قیادت بھرپور جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی امن کے لیے خطرہ ہوگا اور اسے تعاون کا ذریعہ بنانا چاہیے۔
بھارت کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی ہے
سندھ طاس کمشنر سید مہر علی شاہ نے سیمینار کو بتایا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بھارت اگست 2023 سے معاہدے پر عملدرآمد نہیں کر رہا اور پاکستان نے دریا کے بہاؤ سے متعلق اعداد و شمار کے لیے ایک بار پھر بھارت کو خط لکھا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت دریائے چناب کے بہاؤ کو موڑنے کا منصوبہ رکھتا ہے جس سے تقریباً 19 لاکھ کیوسک پانی متاثر ہوگا اور پاکستان اپنے حصے کے پانی کا کوئی بھی رخ موڑنے کی اجازت نہیں دے گا۔
پانی کے بہاؤ پر کنٹرول اصل مسئلہ ہے
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ اصل چیلنج پانی کی قلت نہیں بلکہ پانی کے بہاؤ پر کنٹرول ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کے پانیوں کے بہاؤ کو کنٹرول کرتا ہے جبکہ وہ خود دنیا میں آلودگی پھیلانے والے سب سے بڑے ممالک میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ثالثی عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی بھارت پاکستان لیے مختص دریاﺅں پر پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے تعمیر کر سکتا ہے۔
بین الاقوامی برادری کا کردار
سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر خان نے کہا کہ پاکستان اپنے پانی کے حصے اور اپنی تہذیب کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارتی قیادت نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان کو “ایک بوند” پانی نہیں ملے گا۔ بین الاقوامی قانون کے ماہر احمر بلال صوفی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو غیر موجودہ حالت میں رکھنا مکمل طور پر غیر قانونی ہے اور یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی بھی خلاف ورزی ہے۔روس کی بین الاقوامی امور کی ماہر ڈاکٹر روکسلانا زیگون نے بھی بھارت کے موقف پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوششیں علاقائی استحکام کو نقصان پہنچا سکتی ہی۔ سیمینار میں تمام مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پانی کو کبھی بھی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور سندھ طاس معاہدہ خطے میں قیام امن کے لیے ناگزیر ہے۔
