واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دی وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کو معمولی قرار دیا ہے جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ چینی اداروں نے ایران کو اردن میں واقع ایک فوجی اڈے کی سیٹلائٹ تصاویر فراہم کیں، جس پر ایرانی حملے میں تین امریکی فوجی مارے گئے تھے۔
ٹرمپ کا ردعمل
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ چین اور امریکہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف جاسوسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “جب کہا جاتا ہے کہ چین ہماری جاسوسی کر رہا ہے تو میں کہتا ہوں کہ آپ درست کہہ رہے ہیں، اور ہم بھی ان کی جاسوسی کرتے ہیں۔” ان کا یہ بیان وال اسٹریٹ جرنل میں چینی اور ایرانیوں کے درمیان مبینہ معلومات کے تبادلے کی خبر شائع ہونے کے ایک دن بعد سامنے آیا۔
ایرانی حملے کی تفصیلات
گزشتہ 17 جولائی کو ایران نے اردن میں واقع موافق السلطی ایئر بیس پر میزائل داغے تھے، جہاں امریکی افواج تعینات ہیں۔ اس حملے میں تین امریکی فوجی مارے گئے تھے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق چینی اداروں نے اس حملے سے قبل اور بعد میں اس اڈے کی سیٹلائٹ تصاویر تہران کو فراہم کیں۔
کیا چینی حکومت ملوث ہے؟
وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے ان چینی اداروں کی شناخت ظاہر نہیں کی جو اس معلومات کے تبادلے میں ملوث تھے، اور انہوں نے یہ اشارہ بھی نہیں دیا کہ چینی حکومت براہ راست اس کی ذمہ دار ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق ان حکام نے اس معاملے پر چینی حکام سے بات کی، جنہوں نے سیٹلائٹ تصاویر کی فراہمی کے ثبوت طلب کیے اور یہ تسلیم نہیں کیا کہ چینی کمپنیاں تہران کو ان کی فراہمی میں ملوث تھیں۔ مئی میں واشنگٹن نے چین میں قائم تین سیٹلائٹ کمپنیوں پر ایرانی فوجی کارروائیوں میں سہولت فراہم کرنے پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
چین اور ایران کے تعلقات
بیجنگ تہران کا ایک اہم اقتصادی شراکت دار ہے، جو ایران کی تیل کی پیداوار کا بڑا حصہ خریدتا ہے اور اسے اہم سفارتی حمایت بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چینی صدر شی جن پنگ کا سرکاری دورہ ستمبر کے آخر میں امریکہ کے لیے متوقع ہے۔
مزید تناظر
یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک نئی بلندی پر پہنچ چکی ہے۔ اس سے قبل ایران میں جنگ سے متعلق معلومات کے افشا ہونے کے بعد پینٹاگون نے اپنے اعلیٰ حکام کا پولی گراف ٹیسٹ بھی لیا تھا۔
- ایران نے 17 جولائی کو اردن میں امریکی اڈے پر حملہ کیا، جس میں تین فوجی ہلاک ہوئے
- رپورٹ کے مطابق چینی اداروں نے حملے سے پہلے اور بعد کی سیٹلائٹ تصاویر فراہم کیں
- امریکی حکام نے چینی حکومت کی براہ راست ذمہ داری کا اشارہ نہیں دیا
- مئی میں امریکہ نے تین چینی سیٹلائٹ کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں
- چینی صدر شی جن پنگ کا امرہ کا دورہ ستمبر کے آخر میں متوقع ہے
