کیف: یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے موسم سرما کی آمد سے قبل اپنے اتحادیوں سے ایک بار پھر مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے انہیں 100 سے 120 بیلسٹک میزائل انٹرسیپٹرز کی فراہمی کی ضرورت ہے۔ یوکرین میں گزشتہ کئی ماہ سے روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، خاص طور پر دارالحکومت کیف پر۔
بیلسٹک میزائلوں کا بڑھتا خطرہ
بیلسٹک میزائل بلندی سے انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ اپنے ہدف پر گرتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں روکنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ ان حملوں سے دفاع کے لیے یوکرین بنیادی طور پر امریکی پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹمز پر انحصار کرتا ہے، لیکن گولہ بارود کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
جرمن میڈیا ڈی ڈبلیو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں زیلنسکی نے کہا کہ روس فی الوقت ہر ماہ 140 بیلسٹک میزائل تیار کر رہا ہے۔ نیٹو کے اصولوں کے مطابق، اگر 140 میزائلوں کو تباہ کرنا ہے تو ایک کے مقابلے میں دو کا تناسب درکار ہوگا، یعنی 280 میزائلوں کی ضرورت ہوگی۔
100 سے 120 انٹرسیپٹرز کی درخواست
یوکرینی صدر نے تسلیم کیا کہ انہیں کبھی بھی 280 انٹرسیپٹرز دستیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماہانہ 100 انٹرسیپٹرز کا حصول بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ میری خواہش ہے کہ ان مشکل مہینوں، خاص طور پر موسم سرما کے دوران مجھے 100 سے 120 انٹرسیپٹرز مل سکیں۔
موسم سرما کے خدشات
یوکرین کو خدشہ ہے کہ موسم سرما میں روس اپنے حملوں میں مزید اضافہ کرے گا، خاص طور پر ملک کے توانائی کے نظام کو نشانہ بنایا جائے گا۔ گزشتہ برسوں میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے لاکھوں شہریوں کو سردیوں میں بجلی اور حرارت کے بغیر شدید سردی کا سامنا کرنا پڑا۔
روسی وزارت دفاع نے گزشتہ 30 اگست کو ٹیلی گرام پر اعلان کیا تھا کہ روسی مسلح افواج نے یوکرین کے توانائی کے شعبے کی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملوں کی تیاری شروع کر دی ہے۔
اتحادیوں کی مدد
ان خدشات کے پیش نظر جرمنی اور برطانیہ نے گزشتہ ہفتوں میں کیف کو فضائی دفاع کے لیے اہم مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے، جس میں اپنے ذخیرے سے پیٹریاٹ میزائل بھی شامل ہیں۔ اس کے بعد کینیڈا نے بھی یوکرین کو انٹرسیپٹر میزائل فراہم کرنے کے لیے 200 ملین یورو سے زائد کی اضافی امداد کا اعلان کیا ہے۔
امریکی حمایت پر ابہام
تاہم امریکہ کی حمایت پر اب بھی شکوک و شبہات برقرار ہیں، کیونکہ پیٹریاٹ سسٹمز کی پیداوار کے معاملے پر فیصلہ کن کردار صرف واشنگٹن کا ہے۔ جولائی کے آخر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ یوکرین کو خود انٹرسیپٹرز کی تیاری کی اجازت دی جائے، جس کا کیف مطالبہ کر رہا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ستمبر کے آغاز میں اس موقف کا اعادہ کیا اور کہا کہ مذاکرات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ نے ایران کے خلاف اپنی جنگ میں پیٹریاٹ میزائلوں کا بڑا ذخیرہ استعمال کیا ہے اور کیف کو فراہمی میں نمایاں کمی کر دی ہے۔
زیلنسکی نے جرمن میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ امریکی ہمیں پیٹریاٹ فراہم کرنے پر تیار ہوں گے یا نہیں۔ ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔
