پیرس کے نواحی علاقے سین-اے-مارن کے قصبے فبلین میں ایک ڈرامائی واقعہ پیش آیا، جہاں مقامی پولیس نے ایک مسلح شخص کو خودکشی کرنے سے روک دیا۔ یہ واقعہ 16 اگست کی شام پیش آیا، جب ایک شخص اپنے گھر میں تنہا موجود تھا اور اس نے خود کو گولی مارنے کی دھمکی دی تھی۔
گولی کی آواز پر پولیس نے دروازہ توڑا
اطلاعات کے مطابق، جب پولیس کی انسدادِ جرائم بریگیڈ (BAC) اور محکمہ جاتی مداخلت کمپنی (CDI) کے اہلکار فبلین کے اس مکان پر پہنچے تو انہیں اندر سے گولی چلنے کی آواز سنائی دی۔ اس پر پولیس اہلکاروں نے فوری طور پر دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے۔
اندر داخل ہونے پر انہوں نے دیکھا کہ ایک مایوس شخص کرسی پر بیٹھا ہوا تھا، جس نے اپنی ٹانگوں کے درمیان رکھی رائفل کی نالی اپنی ٹھوڑی کے نیچے رکھی ہوئی تھی۔
رائڈ کی آمد سے قبل مقامی پولیس کی مداخلت
واضح رہے کہ اس واقعے کی اطلاع ملنے کے ایک گھنٹے بعد ہی پولیس کی خصوصی یونٹ ‘رائڈ’ کو طلب کیا گیا تھا، لیکن وہ موقع پر پہنچ نہیں سکی تھی۔ ایسے میں مقامی پولیس اہلکاروں کے پاس انتظار کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، کیونکہ صورتحال انتہائی نازک تھی۔
پولیس اہلکاروں نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس شخص سے بات چیت شروع کی اور اسے خودکشی کے ارادے سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ طویل مذاکرات کے بعد پولیس اہلکار اس باپ کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ وہ اپنی جان نہ لے۔
کامیاب مذاکرات، جان بچ گئی
پولیس کے مطابق، اس شخص نے خودکشی کا ارادہ کیا تھا لیکن مقامی پولیس کی بروقت مداخلت اور مذاکرات کی مہارت کی بدولت اس کی جان بچ گئی۔ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس شخص کی ذہنی حالت اور خودکشی کی وجوہات کا پتہ لگایا جا سکے۔
یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کس طرح مقامی پولیس اہلکاروں کی بہادری اور بروقت فیصلہ سازی نے ایک انسانی جان کو بچایا، چاہے خصوصی یونٹ موقع پر نہ پہنچ سکی ہو۔
