فرانس کے علاقے سین-مور-دی-فوسے میں ایک ہولناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں سات سالہ بچے پر الزام ہے کہ اس نے اپنی پچاس سالہ خالہ کا گلا کاٹ کر قتل کر دیا۔ یہ افسوسناک واردات جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب پیش آئی۔
بچے کے ہاتھ خون سے رنگے
ابتدائی تحقیقات کے مطابق، ملزم بچے کے ہاتھ خون سے آلودہ تھے۔ اس نے مبینہ طور پر یہ الفاظ ادا کیے: “ہاں، یہ میں ہوں۔ میں جیل نہیں جانا چاہتا۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ میری ماں کو جیل بھیجیں، میں نے اپنی ماں کا دفاع کیا ہے۔”
دو بہنوں کے درمیان تنازعہ
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق، یہ واردات دو بہنوں کے درمیان جھگڑے کے بعد پیش آئی۔ مبینہ طور پر اس جھگڑے کے نتیجے میں بچے نے اپنی خالہ پر چاقو سے حملہ کیا۔
قانونی پہلو
فرانس کے قانون کے تحت سات سال کے بچے کو مجرمانہ ذمہ داری سے مستثنیٰ سمجھا جاتا ہے، تاہم اس واقعے نے معاشرے میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ تفتیش کار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اس عمر کے بچے نے اس قدر سنگین فعل کیسے انجام دیا اور اس کے پیچھے کیا عوامل کارفرما تھے۔
- واقعے کی جگہ: سین-مور-دی-فوسے، وال-دی-مارن
- متاثرہ کی عمر: پچاس سال
- ملزم کی عمر: سات سال
- واقعے کا وقت: جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب
یہ واقعہ فرانس میں بچوں کے جرائم اور خاندانی تنازعات کے حوالے سے ایک سنگین سوال کھڑا کرتا ہے، جس پر حکام اور ماہرین نفسیات گہرائی سے غور کر رہے ہیں۔
