مکہ مکرمہ: مسجد الحرام کے موذن شیخ ابراہیم المدنی پیر کے روز انتقال کر گئے۔ انہوں نے اسی روز علی الصبح مسجد الحرام سے اذان فجر دی، جو ان کی آخری اذان قرار پائی۔
رپورٹس کے مطابق شیخ ابراہیم المدنی نے پیر کی صبح مسجد الحرام سے اذان فجر دی، جو اسلام کے مقدس ترین مقام سے ان کی آخری اذان تھی۔ ان کی آخری اذان کی ویڈیو “انسائیڈ دی حرمین” کی جانب سے بھی شیئر کی گئی۔
علالت کے بعد رحلت
سعودی میڈیا کے مطابق شیخ ابراہیم المدنی کچھ عرصے سے علالت کا سامنا کر رہے تھے اور زیرِ علاج تھے۔ ابتدائی رپورٹس میں انتقال کی وجہ نہیں بتائی گئی۔
نماز جنازہ آج عصر کے بعد
رپورٹس کے مطابق ان کی نماز جنازہ پیر کے روز نماز عصر کے بعد مسجد الحرام میں ادا کی جائے گی، جس کے بعد انہیں جنت المعلیٰ قبرستان میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
مسجد الحرام کی خدمات
شیخ ابراہیم المدنی مسجد الحرام کے معروف موذنوں میں شمار ہوتے تھے اور خصوصی طور پر اذان فجر اور تکبیرات کی ادائیگی کے حوالے سے پہچانے جاتے تھے۔ وہ مسجد کے صوتی نظام کے ذریعے امام کی تکبیرات نمازیوں تک پہنچانے کے فرائض میں بھی شامل رہے۔
تعلیم و خدمات کا آغاز
- شیخ ابراہیم المدنی 1976 میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔
- انہوں نے مذہبی گھرانے میں پرورش پائی اور اپنے دادا سے متاثر ہوئے، جو حافظ قرآن تھے۔
- بعد ازاں انہوں نے علومِ قرآنی کی تعلیم حاصل کی۔
- انہوں نے 15 برس کی عمر میں مدینہ منورہ کی ایک محلے کی مسجد میں بطور موذن خدمات کا آغاز کیا۔
- کالج مکمل کرنے تک دیگر موذنوں کے ساتھ باری باری یہ فریضہ ادا کرتے رہے۔
- بعد ازاں انہیں 1439 ہجری بمطابق 2017-18 میں مسجد الحرام میں باضابطہ طور پر موذن مقرر کیا گیا۔
اظہارِ تعزیت اور یادوں کا سلسلہ
ان کے انتقال کی خبر پر تعزیت کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ مسجد الحرام سے ان کی اذان اور تکبیرات کی ریکارڈنگز سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہیں۔
