کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع نوشکی میں منگل کے روز نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ کے نتیجے میں پولیو ویکسینیشن ٹیم کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب ٹیم بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم کے دوران سیکیورٹی فراہم کر رہی تھی۔
کیلی جمال آباد میں حملے کی تفصیلات
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں پر کیلی جمال آباد کے علاقے میں اس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ پولیو ویکسینیشن ٹیم کے ساتھ ڈیوٹی پر تعینات تھے۔ حملے میں دو پولیس اہلکار محمد یاسر اور عبدالرؤف شہید ہوئے۔
واقعے کے بعد شہداء کی لاشوں کو نوشکی ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ سیکیورٹی اداروں نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ حملہ آوروں کو گرفتار کیا جا سکے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کا ردعمل
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء پولیس اہلکاروں محمد یاسر اور عبدالرؤف کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ٹیم پر حملہ ایک “گھناؤنا اور ناقابل معافی” فعل ہے، اور ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔
صوبائی مشیر کا بیان
بلوچستان حکومت کے مشیر برائے داخلہ امور بابر یوسفزئی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے صوبے کے بچوں کے مستقبل پر حملہ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ “فتنہ الہندستان” امن اور بلوچستان کے بچوں کے مستقبل کی دشمن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر صوبے میں امن، ترقی یا بیماریوں کے خاتمے کو نہیں چاہتے۔
پولیو مہم اور سیکیورٹی خدشات
واضح رہے کہ بلوچستان سمیت ملک کے مختلف حصوں میں پولیو کے خاتمے کے لیے جاری مہمات کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کو بار بار نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اس قسم کے حملے پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے لیے سنگین چیلنج ہیں۔
- حملے کا مقام: کیلی جمال آباد، ضلع نوشکی، بلوچستان
- شہداء: پولیس اہلکار محمد یاسر اور عبدالرؤف
- مقصد: پولیو ویکسینیشن ٹیم کو سیکیورٹی فراہم کرنا
- لاشوں کو نوشکی ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا گیا
- وزیر داخلہ محسن نقوی اور مشیر داخلہ بابر یوسفزئی کی مذمت
حکام نے اس بات کا عزم ظاہر کیا ہے کہ پولیو کے خاتمے کی مہم جاری رہے گی اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔
