اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور پٹرولیم لیوی کے معاملے پر بات چیت کی پیشکش کرتے ہوئے پارٹی سے اپنا مارچ چند روز کے لیے ملتوی کرنے کی درخواست کی ہے۔
وزیراعظم کا رابطہ اور پیشکش
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ وہ پٹرولیم لیوی پر جماعت اسلامی کے ساتھ سنجیدہ اور بامعنی بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے حافظ نعیم الرحمٰن کو یقین دہانی کرائی کہ نیویارک سے واپسی پر وہ ان سے ملاقات کریں گے اور عوام کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان بھی کریں گے۔
جماعت اسلامی کا موقف
حافظ نعیم الرحمٰن نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور جب تک لیوی ختم نہیں ہوتی، احتجاج واپس نہیں لیا جائے گا۔
- انہوں نے کہا: ”ہم جدوجہد جاری رکھیں گے اور لیوی کے خاتمے تک احتجاج نہیں چھوڑیں گے۔“
- جماعت اسلامی امیر کے مطابق پارٹی گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے اس لیوی کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔
- ان کا کہنا تھا کہ طویل مارچ کے دوران چند روز کا وقفہ دیا جائے یا نہیں، اس پر وہ پارٹی قیادت سے مشاورت کریں گے۔
ملتان میں ٹرین مارچ اور احتجاجی ریلی
ادھر پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا ٹرین مارچ ملتان پہنچ گیا، جہاں حافظ نعیم الرحمٰن نے ایک ریلی سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو پٹرول پر عائد ”بھتہ ٹیکس“ سے نجات دلائی جانی چاہیے اور پٹرولیم لیوی کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔
ملک بھر میں احتجاجی تحریک
جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے مہم چلا رہی ہے اور ملک بھر میں اس کی احتجاجی تحریک جاری ہے۔ وزیراعظم کی ٹیلیفونک پیشکش اور مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کے بعد اب یہ دیکھنا ہوگا کہ جماعت اسلامی کی قیادت کس فیصلے تک پہنچتی ہے۔
