واشنگٹن نے منگل 29 ستمبر کو کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازعے میں ایک نیا اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے کینیڈین مصنوعات، بالخصوص الکحل مشروبات کی درآمد کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ یہ پابندی بیئر، وائن، برانڈی سمیت تمام قسم کے الکحل مشروبات، وہے پروٹین، اور 800 کیوبک سینٹی میٹر سے بڑی موٹرسائیکلوں پر عائد کی گئی ہے۔
پابندی کا دائرہ کار
وائٹ ہاؤس نے یہ اقدام 8 ستمبر کو اعلان کیا تھا، جس کے بعد کینیڈا نے امریکی مصنوعات پر نئے محصولات عائد کیے تھے۔ اس پابندی کے تحت درج ذیل اشیاء کی درآمد ممنوع قرار دی گئی ہے:
- تمام قسم کے الکحل مشروبات بشمول بیئر، وائن اور برانڈی
- وہے پروٹین جو دودھ کی پروسیسنگ سے حاصل ہوتا ہے
- 800 کیوبک سینٹی میٹر سے بڑی موٹرسائیکلیں جو امریکی ہارلے ڈیوڈسن کا مقابلہ کر سکتی ہیں
ٹرمپ کا کینیڈا پر سخت ردعمل
امریکی صدر نے اوول آفس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا نے امریکہ کے ساتھ انتہائی غیر منصفانہ سلوک کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کینیڈا دنیا کے بدترین ممالک کی طرح پیش آیا۔ صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ چین سمیت دیگر ممالک کے ساتھ اچھے معاہدے کر رہا ہے، لیکن کینیڈا کے ساتھ معاملات انتہائی مشکل ثابت ہو رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے الکحل مشروبات کی درآمد پر پابندی کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا میں امریکی شراب کے خلاف بائیکاٹ کیا جا رہا ہے جو امتیازی ہے۔
کینیڈا کا جوابی رویہ
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے امریکی اقدامات کو مجموعی طور پر نسبتاً معمولی قرار دیا تھا۔ تاہم کینیڈین عوام امریکی محصولات کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ گزشتہ سال سے کینیڈا کے بیشتر صوبوں میں امریکی وائن اور الکحل کی فروخت بند کر دی گئی تھی کیونکہ صوبائی حکومتوں کی ان کی فروخت پر اجارہ داری ہے۔
بیئر کینیڈا کے صدر رچرڈ الیگزینڈر نے کہا کہ اگرچہ کینیڈین بیئر بنانے والے زیادہ تر مقامی مارکیٹ پر توجہ دیتے ہیں، لیکن یہ پابندی ان کے لیے سنگین ہے جنہوں نے برسوں کی محنت سے امریکہ میں گاہک بنائے تھے۔
تجارتی تنازعے کا پس منظر
واضح رہے کہ 8 ستمبر کو امریکی انتظامیہ نے کینیڈین مصنوعات بالخصوص پنیر پر بھی محصولات میں اضافہ کیا تھا۔ کینیڈین عوام نہ صرف امریکی محصولات کے خلاف ہیں بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بار بار دعوے کے بھی مخالف ہیں جس میں انہوں نے کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے کی بات کی تھی۔
یہ تجارتی تنازعہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا رہا ہے جہاں ایک طرف امریکہ کینیڈین مصنوعات پر پابندیاں لگا رہا ہے تو دوسری طرف کینیڈا امریکی مصنوعات کے بائیکاٹ کا سامنا کر رہا ہے۔
