شینزین: چین کی ایک یونیورسٹی نے مصنوعی ذہانت کے دور میں روایتی انگریزی زبان کی تعلیم کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے بتدریج ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام عالمی سطح پر زبان سیکھنے کے روایتی تصورات پر سوالیہ نشان لگا رہا ہے۔
شینزین یونیورسٹی کا تجرباتی منصوبہ
شینزین یونیورسٹی آف ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی (SUAT) نے اس تعلیمی سال سے اپنے کچھ طلبہ کے لیے روایتی انگریزی کورسز کی جگہ بین الثقافتی مواصلات کے کورسز متعارف کرانے کا تجربہ شروع کیا ہے۔ اس کا اعلان یونیورسٹی کے وائس پریزیڈنٹ ژاؤ وئی نے کیا۔
ان کی دلیل سادہ ہے: جب مشین تقریباً فوری طور پر ترجمہ کر سکتی ہے تو کسی غیر ملکی زبان کو سیکھنے میں اتنا وقت کیوں صرف کیا جائے؟ انہوں نے ایسے دو افراد کی گفتگو کی مثال دی جو جدید ایئر فنز پہنے ہوئے ہیں۔ ایک انگریزی بولتا ہے اور دوسرے کو چینی ترجمہ سنائی دیتا ہے، جبکہ دوسرا چینی میں جواب دیتا ہے اور اس کا جواب ہسپانوی میں منتقل ہو جاتا ہے۔
صرف زبان نہیں، ثقافت پر توجہ
یونیورسٹی کا مقصد غیر ملکی زبانوں اور ثقافتوں سے متعلق تمام تعلیم کو مکمل طور پر ختم کرنا نہیں۔ روایتی انگریزی کلاسز کی جگہ بین الثقافتی مواصلات کے کورسز لائے جا رہے ہیں جن میں طلبہ چینی اور مغربی ثقافتوں کا مطالعہ کریں گے اور غیر ملکی افراد سے مؤثر رابطے کے طریقے سیکھیں گے۔
ماہرین کے مطابق اگر مشین الفاظ کا ترجمہ کر سکتی ہے تو یونیورسٹی ان پہلوؤں پر زیادہ وقت دینا چاہتی ہے جو مشین کے لیے مشکل ہیں، جیسے ثقافتی فرق اور گفتگو کے سماجی اصول۔
چین میں انگریزی کی حیثیت پر بحث
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین میں انگریزی زبان کی حیثیت پر وسیع بحث جاری ہے۔ ستمبر میں چینی ریاضی کے پروفیسر تانگ جیا فینگ نے اسکولوں میں انگریزی تعلیم کو اختیاری بنانے کی تجویز دی جس پر سوشل میڈیا پر زبردست بحث چلی۔
1970 کی دہائی کے آخر میں اصلاحات کے بعد سے انگریزی کو چینی اور ریاضی کے ساتھ تین بنیادی مضامین میں شامل کیا گیا تھا۔ یہ گاوکاؤ یعنی یونیورسٹی میں داخلے کے تعین کن امتحان میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
کیا مشینی ترجمہ واقعی زبان کی روح منتقل کر سکتا ہے؟
شینزین کی دلیل حقیقی تکنیکی ترقی پر مبنی ہے۔ مشینی ترجمہ اب صرف تحریری جملوں تک محدود نہیں بلکہ زبانی گفتگو کو بھی کم وقت میں پہچان کر ترجمہ کر سکتا ہے۔
تاہم، گفتگو کا ترجمہ کرنا اور اسے مکمل طور پر سمجھنا دو الگ باتیں ہیں۔ سیاق و سباق، مزاح، اشارے، ثقافتی محاورات اور لہجہ معنی کو بدل سکتے ہیں۔ یہی اس تجربے کا بنیادی تضاد ہے کہ یونیورسٹی مشینی ترجمے کی ترقی کی بنیاد پر روایتی انگریزی تعلیم کم کر رہی ہے لیکن ثقافتی کوڈز سیکھنے کی ضرورت کو تسلیم کرتی ہے۔
سماجی عدم مساوات کا خدشہ
انگریزی کی اہمیت کم کرنے کے مخالفین سماجی پہلو بھی اٹھا رہے ہیں۔ گوانگ ڈونگ صوبے کی انگریزی کی پروفیسر سنڈریلا ہوانگ نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ امیر گھرانے نجی اساتذہ یا بین الاقوامی اسکولوں کے ذریعے بچوں کو انگریزی سکھاتے رہیں گے، جبکہ کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کے لیے سرکاری تعلیم ہی واحد ذریعہ ہے۔
انگریزی اب بھی بہت سی غیر ملکی یونیورسٹیوں میں تعلیم، بین الاقوامی کمپنیوں میں ملازمت اور سائنسی مواد تک رسائی کے لیے انتہائی مفید ہے۔
عالمی سطح پر اٹھنے والا سوال
چین میں اٹھنے والا یہ سوال جلد دیگر ممالک میں بھی اٹھ سکتا ہے: اگر ترجمے کے اوزار مسلسل ترقی کر رہے ہیں تو کیا غیر ملکی زبان بولنا سیکھنے میں اتنا وقت دینا ضروری رہے گا؟ یا اس سے زیادہ ضروری ہو گا کہ اس زبان بولنے والے لوگوں اور ان کی ثقافت کو سمجھا جائے؟
