پشاور: سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں علیحدہ علیحدہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے دوران چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جن کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور ایک موٹر سائیکل برآمد ہوئی ہے۔
میر علی میں تین دہشت گرد ہلاک
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے علاقے میر علی اور اس کے گرد و نواح میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا، جس میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ کارروائی کے دوران تین دہشت گرد مارے گئے، جبکہ ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
بلوچستان میں ایک دہشت گرد ہلاک
ادھر بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت سیکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر فتنہ الہندوستان سے وابستہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ آپریشن ضلع سوراب کے علاقے مل مدرسہ کے قریب کیا گیا، جہاں مل مدرسہ اور بٹیگو کے درمیان عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔ کارروائی میں ایک دہشت گرد ہلاک ہوا، جبکہ موقع سے اسلحہ اور ایک موٹر سائیکل برآمد ہوئی۔
سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ وہ بلوچستان میں امن و امان برقرار رکھنے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔
وزیر داخلہ اور وزیر اعظم کی کارروائیوں کی تعریف
وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں خوارجی دہشت گردوں کے خلاف کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کی تعریف کی، جن میں چار دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
اپنے بیان میں وزیر داخلہ نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائیوں نے دہشت گردوں کے منصوبوں کو ناکام بنایا اور ان کی آپریشنل صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر انداز میں کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو اپنے اہداف حاصل کرنے سے روک دیا۔
محسن نقوی نے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز میں شامل اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا، جن کے نتیجے میں چار دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز دہشت گردوں کی مکمل بیخ کنی تک جاری رہیں گے اور سیکیورٹی فورسز سلامتی کو برقرار رکھنے اور دہشت گردی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کے لیے پرعزم ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے بہادر اہلکار قوم کا فخر ہیں اور انہوں نے دہشت گردی کے خطرات کا مقابلہ کرنے اور ملک کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے خوارجی دہشت گردوں کے خلاف لڑنے والے سپاہیوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور ان کی جرات اور عزم کو سلام کیا۔
دہشت گردی کے خلاف جاری مہم کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ کارروائیاں جاری رہیں گی اور دہشت گردوں کے خلاف مکمل خاتمے تک عمل جاری رہے گا۔
اسی طرح وزیر اعظم شہباز شریف نے شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا، جس میں تین خوارجی مارے گئے۔
وزیر اعظم نے اپنے بیان میں سیکیورٹی فورسز کو ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرنے پر سراہا اور دہشت گردی کے خلاف ان کی جاری کارروائیوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں قابل تعریف ہیں اور یہ عمل دہشت گردی کے خاتمے تک جاری رہے گا۔
وزیر اعظم نے دہرایا کہ پاکستان سے دہشت گردی کی لعنت کا خاتمہ حکومت کی ترجیح ہے اور پوری قوم اپنی سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
