لندن: برطانوی انسدادِ دہشت گردی پولیس نے منگل کے روز تصدیق کی ہے کہ امریکی فضائیہ کے زیرِ استعمال ایئر بیس کے قریب بڑے سیکیورٹی آپریشن کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے پانچ مشتبہ افراد کی گاڑیوں کی تلاشی کے دوران کوئی بارودی مواد یا دیسی ساختہ بم برآمد نہیں ہوا۔
انسدادِ دہشت گردی پولیس کے سربراہ لارنس ٹیلر کے مطابق پیر کے روز ان تمام پانچ مشتبہ افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا جنہیں دہشت گردی اور بارودی مواد سے متعلق الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ رائل ایئر فورس فیرفورڈ کے قریب تین وینز سے ایک خاص مقدار میں پٹرول برآمد ہوا تھا۔
گاڑیوں کی مکمل جانچ، کوئی بم نہیں ملا
لارنس ٹیلر نے اپنے بیان میں کہا کہ ان گاڑیوں کی فوجی اثاثوں اور فرانزک ماہرین کی معاونت سے تفصیلی جانچ کی گئی، اور ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ کوئی دیسی ساختہ بارودی مواد برآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تفتیش کاروں نے لندن میں بھی کئی مقامات پر چھاپے مارے۔
ٹیلر کے مطابق مشتبہ افراد کو ضمانت پر رہا کرنا ایک تفتیشی فیصلہ تھا جو تجربے اور پولیس اختیارات پر محتاط غور و خوض پر مبنی تھا۔ ان افراد کے خلاف ابھی تک کوئی باقاعدہ الزام عائد نہیں کیا گیا۔
ٹرمپ کا اظہارِ ناراضی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات پر مایوسی ہوئی کہ انہوں نے دہشت گردوں کو پکڑا، اچھا کام کیا، اور پھر انہیں چھوڑ دیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ آپ ایک دہشت گرد کو ضمانت کیسے دے سکتے ہیں؟
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ طویل المدتی تفتیش تھی تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ جی ہاں، ہم اس میں شامل تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سنجیدہ اور انتہائی برے لوگ تھے اور انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس فیصلے پر حیران ہیں کہ مشتبہ افراد کو پیر کے روز ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ انہوں نے اوول آفس میں کہا کہ میں تو کہتا کہ انہیں ضمانت نہ دی جائے۔ مجھے حیرت ہے کہ انہیں رہا کر دیا گیا، میں ایسا نہ کرتا۔
امریکی صدر نے اشارہ دیا کہ امریکی حکام اس معاملے پر برطانوی ہم منصبوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہت اچھے ہیں اور ہمارے ساتھ قریبی تعاون کر رہے ہیں، اور امریکہ مشتبہ افراد کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے۔
غیر ملکی عنصر کے ملوث ہونے کا الزام
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ اس واقعے میں واضح طور پر کسی غیر ملکی عنصر کا ہاتھ ہے، تاہم برطانوی حکام نے اس الزام کی تصدیق نہیں کی۔
یاد رہے کہ پانچوں مشتبہ افراد لندن سے تعلق رکھنے والے برطانوی شہری ہیں جن کی عمریں بیس سال کے لگ بھگ ہیں۔ انہیں اتوار کے روز دہشت گردی اور بارودی مواد سے متعلق جرائم کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا، جب تین گاڑیاں آر اے ایف فیرفورڈ کی طرف بڑھتی ہوئی دیکھی گئیں۔ یہ ایئر بیس لندن سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے فاصلے پر واقع ہے۔
بڑے واقعے کے اعلان کے بعد انسدادِ دہشت گردی پولیس نے معاملے کی ذمہ داری سنبھالی، جس سے کاٹس وولڈز کے عام طور پر پرسکون دیہی علاقے میں زندگی متاثر ہوئی۔
قانونی پہلو اور حراست کی مدت
انسدادِ دہشت گردی پولیس کے مطابق ان افراد کو دھماکہ خیز مواد ایکٹ کے تحت جرائم کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ برطانوی قانون 1875 کا ہے جو بارود اور دھماکہ خیز مواد کی تیاری، رکھنے، فروخت، نقل و حمل اور درآمد کو کنٹرول کرتا ہے۔ ان پر دہشت گردانہ کارروائی کی تیاری کا بھی شبہ تھا۔
انگلینڈ اور ویلز کے سابق ڈائریکٹر آف پبلک پراسیکیوشن میکس ہل کے مطابق برطانیہ میں پولیس عام طور پر کسی شخص کو 24 گھنٹے تک حراست میں رکھ سکتی ہے، جس کے بعد الزام عائد کرنا یا رہا کرنا لازم ہوتا ہے۔ تاہم سنگین جرم کے شبے میں یہ مدت بڑھائی جا سکتی ہے۔ دہشت گردی ایکٹ کے تحت گرفتار افراد کو بغیر الزام 14 دن تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔
میکس ہل نے کہا کہ اس معاملے میں اس بات پر غیر یقینی صورتحال موجود ہے کہ آخرکار دہشت گردی سے متعلق کوئی الزامات سامنے آئیں گے یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشتبہ افراد کی ضمانت پر رہائی کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں دوبارہ حراست میں نہیں لیا جا سکتا، تاہم یہ ظاہر کرتا ہے کہ رسمی ریمانڈ درخواست کے لیے کافی شواہد موجود نہیں۔
ایران کے ممکنہ کردار پر سوالات
اس واقعے نے اس بارے میں سوالات اٹھائے ہیں کہ آیا کوئی غیر ملکی عنصر، خاص طور پر ایران، اس میں ملوث ہو سکتا ہے۔ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے اس موسم گرما میں برطانیہ کو خبردار کیا تھا کہ آر اے ایف فیرفورڈ ایک جائز ہدف ہو سکتا ہے۔ یہ انتباہ اس وقت کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی جانب سے امریکہ کو ایران کے خلاف مخصوص اور محدود دفاعی کارروائیوں کے لیے اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے کے مہینوں بعد آیا تھا۔
برطانیہ میں ایرانی سفارت خانے نے پیر کے روز کسی بھی قسم کے ملوث ہونے سے انکار کیا۔
مارکو روبیو نے بعد ازاں فاکس نیوز پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں گزشتہ ہفتے کے آخر میں جو کچھ ہوا، جو تقریباً ہو گیا تھا، وہ انتہائی سنجیدہ صورتحال ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے دنوں میں اس بارے میں مزید اطلاعات سامنے آئیں گی۔
لارنس ٹیلر نے کہا کہ ان کے لیے ہر پہلو اور تمام انٹیلیجنس معلومات کی تفصیل بتانا ممکن نہیں تھا، جو ان کے مطابق اس نوعیت کی تفتیش میں غیر معمولی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں اس قدر نمایاں ہونا غیر معمولی ہے، اور ان کی ٹیم بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
