واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والے ایک نئے سرکاری پورٹل America.gov کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد وفاقی حکومت کی مختلف خدمات کو ایک ہی پلیٹ فارم پر مرکوز کرنا ہے۔ یہ پورٹل شہریوں کو نام کی تبدیلی کی اطلاع دینے سے لے کر نیا پاسپورٹ حاصل کرنے تک کی سہولیات چند کلکس میں فراہم کرے گا۔
شہریوں کو بااختیار بنانے کا دعویٰ
واشنگٹن میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ محض ایک ویب سائٹ نہیں بلکہ “طاقت اور کنٹرول عوام کے ہاتھ میں واپس لوٹانے” کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے اسے “اکیسویں صدی اور اس کے بعد کے لیے حکومت کی از سرِ نو تشکیل” قرار دیا جو ضروری خدمات تک رسائی کو “لامحدود آسان، تیز اور زیادہ عملی” بناتی ہے۔
اس موقع پر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ اس نظام کے تحت “نہ کوئی فارم پرنٹ کرنا ہوگا، نہ اپائنٹمنٹ لینی ہوگی، نہ قطار میں لگنا ہوگا اور نہ ہی کسی ایسے درمیانی شخص کو ادائیگی کرنی ہوگی جو آپ سے آسان کام کے پیسے لے۔”
پاسپورٹ کے لیے چند کلکس
نئے پورٹل کی سب سے نمایاں خصوصیت پاسپورٹ کی درخواست کا آسان عمل ہے۔ اس نظام میں درخواست دہندہ کو دوبارہ اپنی ذاتی معلومات فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ یہ خودکار طور پر ظاہر ہو جاتی ہیں۔ اسی طرح تصویر لینے کے لیے کسی مخصوص کیبن میں جانے کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔
یہ پلیٹ فارم ایئرب این بی کے شریک بانی جو گیبیا کی نگرانی میں تیار کیا گیا ہے اور اس کا مقصد سرکاری خدمات کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
اے آئی کے حوالے سے تحفظات
اس اقدام کے ساتھ ہی امریکہ میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش بھی سامنے آ رہی ہے۔ سی این این کے ایک سروے کے مطابق 82 فیصد امریکی شہری اے آئی کی ترقی کی رفتار پر “پریشان” ہیں۔
مزید برآں، رپورٹس کے مطابق یہ اے آئی نظام بعض اوقات ایسے جوابات بھی دے رہا ہے جو صدر ٹرمپ کے بیانات کے برعکس ہیں۔ مثال کے طور پر 2020 کے انتخابات کے بارے میں یہ پلیٹ فارم جو بائیڈن کی جیت کا ذکر کرتا ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے یہ انسانی سرگرمیوں کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔
یہ پورٹل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 3 نومبر کے انتخابات قریب آ رہے ہیں اور اے آئی کی سلامتی اور شفافیت ایک اہم سیاسی موضوع بن چکا ہے۔
