پیرس: فرانس میں اس سال ستمبر کے مہینے میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے عام شہریوں کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صارفین کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر 3 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو اگست کے مہینے میں 2.4 فیصد تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ تیز رفتار اضافہ بنیادی طور پر توانائی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے ہوا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کی قیمتوں میں گزشتہ ماہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ اضافہ دیکھا گیا، جس نے مجموعی مہنگائی کے گراف کو اوپر کی طرف دھکیل دیا۔
توانائی کے شعبے میں قیمتوں کا دباؤ
توانائی کی قیمتوں میں یہ اضافہ نہ صرف فرانس بلکہ پورے یورپ کے لیے ایک تشویشناک امر ہے۔ موسم سرما کے قریب آتے ہوئے توانائی کی طلب میں اضافے کے پیش نظر قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یورپی یونین نے بھی اس موسم سرما میں توانائی کی قیمتوں کے “انتہائی بلند” رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔
خدمات اور خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافہ
مہنگائی کے اس اضافے میں صرف توانائی ہی نہیں بلکہ خدمات اور خوراک کے شعبے بھی شامل ہیں۔
- خدمات: خدمات کے شعبے میں سالانہ بنیادوں پر قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس بار موسم گرما کے بعد رہائش اور نقل و حمل کے کرایوں میں روایتی کمی کم رہی۔
- خوراک: خوراک کی قیمتوں میں بھی تیزی ریکارڈ کی گئی۔ تازہ مصنوعات کی قیمتوں میں خاص طور پر زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔
- تیار مصنوعات: تیار شدہ اشیاء کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر کمی کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔
- تمباکو: تمباکو کی قیمتوں میں اگست کے مہینے کی طرح ہی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
دو سال بعد سب سے بڑا اضافہ
فرانس میں دو سال سے زائد عرصے کے بعد مہنگائی کی شرح میں اس نوعیت کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس سے قبل فروری 2024 میں ایسی صورتحال دیکھنے میں آئی تھی، جب فرانسیسی معیشت یوکرین پر روسی حملے کے بعد پیدا ہونے والی افراط زر کی لپیٹ سے بحران کا شکار تھی۔
ادھر یورپ کے دیگر ممالک بھی مہنگائی کی اسی لہر سے متاثر ہیں۔ اسپین میں بھی ستمبر کے دوران مہنگائی کی شرح 5 فیصد کے قریب پہنچنے کا امکان ہے، جہاں بھی توانائی کی قیمتیں اس کی بڑی وجہ ہیں۔ تاہم بینک آف فرانس نے اپنی تازہ اقتصادی پیش گوئی میں کہا ہے کہ فرانس میں مہنگائی کی شرح اپنے دیگر یورپی پڑوسیوں کے مقابلے میں نسبتاً کم رہے گی۔
عوامی زندگی پر اثرات
مہنگائی کے اس اضافے نے عام شہریوں کی جیب پر براہ راست بوجھ ڈالا ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث گاڑی چلانے والوں، روزمرہ کی خریداری کرنے والوں اور مختلف خدمات حاصل کرنے والوں سبھی کو مہنگائی کا سامنا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اگر توانائی کی قیمتیں اسی رفتار سے بڑھتی رہیں تو آنے والے مہینوں میں مہنگائی کی شرح مزید بلند ہو سکتی ہے۔
