اقوام متحدہ میں پاکستان نے غزہ میں شہریوں کے تحفظ، بلا روک ٹوک انسانی امداد کی فراہمی اور بین الاقوامی قانون کی مکمل پاسداری کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی پاکستان نے فلسطینی اور کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے اصول کا اعادہ بھی کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے ڈپٹی مستقل نمائندے عثمان جدون نے اپنے خطاب میں کہا کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے نظام کی ساکھ اس بات پر منحصر ہے کہ اصولوں اور ان کے نفاذ کے درمیان موجود خلا کو پُر کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے اصولوں کا اطلاق ہر جگہ یکساں طور پر ہونا چاہیے۔
دوہرے معیار کی مذمت
عثمان جدون نے واضح کیا کہ یہ قابل قبول نہیں کہ انسانی حقوق کے اصولوں کو ایک صورت حال میں تو تسلیم کیا جائے اور دوسری صورت حال میں انہیں نظر انداز کر دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری کو اپنے انسانی حقوق کے وعدوں اور زمینی حقائق کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہوگا۔
انہوں نے غزہ میں فلسطینیوں کی تکلیف کو انسانی حقوق کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کے عزم کا فیصلہ کن امتحان قرار دیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت کی پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ یہی اصول جموں و کشمیر کے عوام پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
کشمیری عوام کی آٹھ دہائیوں کی جدوجہد
پاکستانی سفارت کار نے کہا کہ کشمیری عوام تقریباً آٹھ دہائیوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے نفاذ کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا، نسل پرستی اور زینوفوبیا کے رجحانات کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرے۔
ان کا موقف تھا کہ کسی فرد کے وقار کا تعین اس کے مذہب، قومیت یا شناخت کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی وقار کا تعین طاقت سے نہیں ہونا چاہیے، انصاف کا فیصلہ سیاست نہیں کرنی چاہیے اور ترقی کو کسی خاص طبقے کا استحقاق نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
انسانی حقوق کے اصولوں کا عالمی اطلاق
عثمان جدون نے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کے اصولوں کا اطلاق عالمی، مستقل اور غیر امتیازی بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی وعدوں کے ساتھ ساتھ زمینی سطح پر عملی اقدامات بھی ضروری ہیں، ورنہ ان اصولوں کی ساکھ برقرار نہیں رہ سکتی۔
- غزہ میں شہریوں کے تحفظ اور بلا روک ٹوک انسانی امداد کی فراہمی پر زور
- فلسطینی اور کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کا اعادہ
- اسلاموفوبیا، نسل پرستی اور زینوفوبیا کے بڑھتے رجحانات پر تشویش
- انسانی حقوق کے اصولوں کے عالمی، مستقل اور غیر امتیازی اطلاق کا مطالبہ
- اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے نفاذ پر اصرار
