ڈاکار: سینیگال کے معروف ادیب، مفکر اور سابق وزیر شیخ حمیدو کان ہفتے کی شب 98 برس کی عمر میں دارالحکومت ڈاکار میں انتقال کر گئے۔ انہیں افریقی فرانسیسی ادب کی نمایاں ترین شخصیات میں شمار کیا جاتا تھا اور ان کا ناول “L’Aventure ambiguë” (الجھا ہوا سفر) افریقی ادب کا ایک لازوال کلاسیک مانا جاتا ہے۔
سینیگال کے صدر باسیرو دیومائے فائے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنے پیغام میں کہا، “مجھے انتہائی رنج کے ساتھ شیخ حمیدو کان کے انتقال کی خبر ملی۔” انہوں نے مزید لکھا، “اپنے ناول کے ذریعے انہوں نے افریقیوں کی کئی نسلوں کو وہ الفاظ فراہم کیے جن سے وہ اس سوال پر غور کر سکیں جو آج بھی ہمیں درپیش ہے — یہ کہ دنیا کے علم کے لیے اپنے آپ کو کیسے کھولا جائے بغیر اپنی شناخت کھوئے۔ بطور وزیر انہوں نے بھی سینیگال کی بڑی لگن سے خدمت کی۔”
قرآن کی تعلیم اور مغربی مدرسے کا دوہرا سفر
شیخ حمیدو کان 2 اپریل 1928 کو سینیگال کے شمال مشرقی علاقے ماتام میں پیدا ہوئے۔ ان کی پرورش قرآنی تعلیم اور فرانسیسی اسکول کے درمیان ہوئی۔ اسلامی اور مغربی تعلیم کا یہ دوہرا تجربہ ان کے ادبی کام کی گہری بنیاد بنا۔ انہوں نے ابتدا میں پیرس میں قانون اور فلسفے کی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز رہے اور سینیگال کی آزادی کے بعد حکومتی ذمہ داریاں نبھائیں۔ وہ یونیسیف کے ساتھ بھی وابستہ رہے۔
ایک ایسا ناول جو نصابی کتاب بن گیا
1961 میں شائع ہونے والا ان کا نیم خودنوشت ناول “L’Aventure ambiguë” زندگی، اسلام، سینیگال کے شمال میں واقع دیالوبے قوم کی اقدار اور خاص طور پر مغرب سے واسطے کا احاطہ کرتا ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار سامبا دیالو ایک نوجوان مسلمان ہے جو قرآنی روایت میں پرورش پانے کے بعد فرانسیسی اسکول بھیجا جاتا ہے اور پھر پیرس میں تعلیم حاصل کرتا ہے، جہاں وہ اپنی آبائی ثقافت، ایمان اور مغربی فکر کے درمیان بٹ جاتا ہے۔ یہ ناول بڑی حد تک خود کان کی ذاتی زندگی سے متاثر ہے۔
- یہ ناول تقریباً چالیس زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔
- 1962 میں اسے “گراں پرائے ادبی افریقہ نوئر” سے نوازا گیا۔
- یہ کتاب کئی دہائیوں سے افریقی براعظم کے اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں پڑھائی جاتی ہے۔
سینیگال کے صدر نے کہا، “ان کا ادبی کام اب ہماری قوم اور پوری افریقہ کی مشترکہ میراث کا حصہ ہے۔” ڈاکار کی شیخ انٹا دیوپ یونیورسٹی نے فیس بک پر لکھا، “اپنے کام، فکر اور وابستگی کے ذریعے شیخ حمیدو کان نے ایک عظیم فکری اور ثقافتی ورثہ چھوڑا ہے جو آنے والی نسلوں کے قارئین، طلبہ اور محققین کی سوچ کو روشن کرتا رہے گا۔”
ادب کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی نمایاں خدمات
اپنی ادبی زندگی کے ساتھ ساتھ شیخ حمیدو کان نے کئی اعلیٰ سرکاری عہدے بھی سنبھالے۔ وہ سینیگال کے مغربی علاقے تھیس کے گورنر رہے اور 1980 کی دہائی میں منصوبہ بندی اور تعاون کے وزیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کی وفات پر ادبی حلقوں اور سیاسی شخصیات نے گہرے رنج کا اظہار کیا ہے۔
