امریکی ریاست نیو یارک کی معروف کارنیل یونیورسٹی میں 2024 کے اجتماعی زیادتی کے کیس نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر پیدا کر دی ہے۔ یونیورسٹی کے صدر مائیکل کوٹلکوف نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ اس معاملے کی مکمل اور آزادانہ بیرونی تحقیقات کرائی جائیں گی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ واقعے کے وقت انتظامیہ نے کس طرح اس کیس کو ہینڈل کیا۔
صدر کا ویڈیو پیغام اور اعتراف
یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں صدر مائیکل کوٹلکوف نے کہا کہ بورڈ آف ٹرسٹیز کے تعاون سے ایک بیرونی قانونی فرم کے ذریعے اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کارنیل نے 2024 کے کیس کو کس انداز میں دیکھا اور نمٹایا۔ انہوں نے اس ہفتے کو یونیورسٹی کی تاریخ کے مشکل ترین ہفتوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ آنے والے برسوں تک ہماری کمیونٹی پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔
کیس کی تفصیلات اور الزامات
ٹومپکنز کاؤنٹی کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے پیر کے روز اکتوبر 2024 کے اس کیس کی دوبارہ تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب متاثرہ طالبہ نے دیوانی عدالت سے رجوع کیا۔
- واقعے کے وقت متاثرہ طالبہ کی عمر 20 سال تھی۔
- اس نے الزام لگایا کہ چرچی فائی نامی طلبہ تنظیم کے سات طلباء نے اجتماعی زیادتی کی۔
- طالبہ کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت اس نے شراب اور کیٹامائن کا استعمال کیا تھا۔
- اس کی ابتدائی شکایت پر کوئی مقدمہ نہیں چلایا گیا تھا۔
گورنر نیو یارک کا سخت ردعمل
نیو یارک کی گورنر کیتھی ہوچول نے اس معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیشی عمل پر سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی پولیس اور پراسیکیوٹر میتھیو وان ہوٹن دونوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ پراسیکیوٹر میتھیو وان ہوٹن نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ابتدائی شکایت پر کارروائی نہیں کی کیونکہ پولیس کی جانب سے فراہم کردہ شواہد میں باہمی رضامندی کے تعلقات کا ذکر تھا۔
کیمپس میں بڑھتا ہوا غم و غصہ
اس کیس نے کارنیل یونیورسٹی کے کیمپس اور اس سے باہر بھی غم و غصے کی لہر پیدا کر دی ہے۔ بہت سے لوگ اسے برادرانہ تنظیموں میں پائی جانے والی مردانہ بالادستی کی ثقافت کی علامت سمجھتے ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو گیا جب پراسیکیوٹر نے شکایت پر کارروائی نہ کرنے کی وجہ بیان کی، جس کے بعد متاثرہ طالبہ نے دیوانی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے بیرونی تحقیقات کا اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ بھر میں اس واقعے کو لے کر بحث جاری ہے اور متاثرہ طالبہ کے لیے انصاف کے مطالبات تیز ہو رہے ہیں۔
