پشاور: خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر دہشت گردی کو سہولت دینے کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا یہ جماعت دہشت گردوں کے لیے آزادانہ کارروائی کا ماحول فراہم کر رہی ہے۔
گورنر کا سوشل میڈیا بیان
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ بیان میں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اقدامات اور بار بار کیے جانے والے سمجھوتے سنگین سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ جماعت ایسا ماحول بنانے میں معاون ہے جس میں دہشت گرد بغیر کسی رکاوٹ کے کارروائیاں کر سکیں۔
گورنر نے کہا کہ صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے سیکیورٹی سے متعلق اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صوبائی حکومت کو اپنے عوام کے تحفظ کو اولین ترجیح بنانا چاہیے۔
صوبائی حکومت پر سخت تنقید
اپنے بیان میں گورنر کنڈی نے واضح الفاظ میں کہا کہ کیا یہ چیزیں ایسی صوبائی حکومت کی ترجیحات نہیں ہونی چاہئیں جس کا اپنا صوبہ خون بہہ رہا ہے؟ ان کے مطابق پی ٹی آئی خود کو دہشت گردی کے سہولت کار کے طور پر بے نقاب کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ذمہ داری اٹھانے اور عوام کے تحفظ کے بجائے صوبائی حکومت سیکیورٹی سے متعلق وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی ہے، جو کہ شرمناک عمل اور خالص بزدلی ہے۔
سیکیورٹی معاملات پر تشویش
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی سیکیورٹی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو گئی ہے اور سیکیورٹی معاملات پر اس کا مؤقف تشویشناک ہے۔
انہوں نے دہرایا کہ سیکیورٹی وعدوں سے پیچھے ہٹنا ایک شرمناک فعل ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے فرار دراصل بزدلی کے مترادف ہے۔ گورنر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی چیلنجز پر بحث جاری ہے۔
