اسلام آباد: وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ بات چیت کا بنیادی محور خیبر پختونخوا کی قانون و امن عامہ اور دہشت گردی کی صورتحال تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر کردار ادا کیا جائے، تاہم اپوزیشن اس معاملے پر تعاون کرنے کو تیار نہیں تھی۔
عمران خان سے ملاقات پر لچک مگر دیگر نکات پر اتفاق نہ ہو سکا
وزیرِ اعظم کے مشیر نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقاتوں کے حوالے سے لچک کا مظاہرہ کیا، لیکن دونوں فریق دیگر اہم نکات پر اتفاقِ رائے تک نہ پہنچ سکے۔
انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ مجوزہ پی ٹی آئی لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مستقبل میں مذاکرات کا دروازہ کھلا رہ سکتا ہے
رانا ثناء اللہ کے مطابق جن نکات پر دونوں فریقوں میں اتفاق نہیں ہو سکا، وہ سب کے سامنے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون فراہم کیا گیا تو مستقبل میں مذاکرات کا دروازہ کھلا رہ سکتا ہے۔
- پی ٹی آئی لانگ مارچ کو اسلام آباد میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
- مذاکرات میں خیبر پختونخوا کی قانون و امن عامہ اور دہشت گردی کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔
- حکومت نے عمران خان سے ملاقاتوں کے معاملے پر لچک دکھائی۔
- دہشت گردی کے خلاف تعاون کی صورت میں مذاکرات کا دروازہ کھلا رہ سکتا ہے۔
