اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ پارٹی حکومت کے ساتھ مذاکرات کو کامیاب بنانا چاہتی ہے، تاہم دونوں فریقین نے ابھی یہ طے نہیں کیا کہ اگلا دورِ مذاکرات کب ہوگا۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گوہر نے کہا کہ پارٹی کا لانگ مارچ شیڈول کے مطابق جاری رہے گا اور یہ پارٹی کا حق ہے۔
خیبر پختونخوا کے مینڈیٹ کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کے بہانے ایسے اقدامات نہیں کیے جانے چاہئیں جن سے خیبر پختونخوا کے عوام میں نفرت، تقسیم یا تناؤ پیدا ہو یا صوبے کے مینڈیٹ، خودمختاری اور اختیارات کو نقصان پہنچے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ صوبائی حقوق یا عوامی مینڈیٹ کے خلاف کسی اقدام کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اور ایسے اقدامات اٹھارہویں ترمیم کی روح کے بھی خلاف ہوں گے۔
ایمرجنسی یا گورنر راج قابل قبول نہیں
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ لانگ مارچ کا جواب ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی وفود کے درمیان اگلی ملاقات کب ہوگی، یہ ابھی طے نہیں ہوا۔
حکومتی موقف: کئی معاملات پر اتفاق رائے ہوا
ادھر وفاقی وزیر طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے دوران کئی معاملات پر اتفاق رائے ہو گیا تھا، لیکن خیبر پختونخوا کی قیادت کی ہدایات پر معاہدے کا مسودہ بار بار تبدیل کیا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ صوبائی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے تیار نہیں، اور یہی وجہ ہے کہ مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکے۔
- پی ٹی آئی لانگ مارچ شیڈول کے مطابق جاری رہے گا: بیرسٹر گوہر
- ایمرجنسی یا گورنر راج کو لانگ مارچ کا جواب بنانے کی مخالفت
- صوبائی حقوق اور عوامی مینڈیٹ کے خلاف اقدامات مسترد
- اگلے دورِ مذاکرات کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی
- وفاقی وزیر طلال چوہدری کا این اے پی پر عمل درآمد نہ ہونے کا الزام
