کراچی: سومالی قزاقوں کے قبضے میں آنے والے ٹینکر پر پانچ ماہ سے زائد عرصے تک یرغمال رہنے کے بعد رہا ہونے والے چار پاکستانی ملاح اتوار کو کراچی پہنچ گئے۔ ان کی وطن واپسی پہلے اعلان کردہ شیڈول سے ایک روز تاخیر سے عمل میں آئی، جبکہ اس دوران ہلاک ہونے والے تین ساتھیوں کی لاشوں کو وطن واپس لانے کی کوششیں جاری ہیں۔
ملاحوں کی واپسی کے تفصیلی انتظامات
چار ملاح یاسر خان، عقیل خان، امین بن شمس اور عثمان غنی ایتھوپین ایئرلائنز کی پرواز ET694 کے ذریعے ادیس ابابا سے کراچی پہنچے۔ دستاویزات کے مطابق یہ پرواز اتوار چار اکتوبر کو پاکستانی وقت کے مطابق سہ پہر چار بج کر چالیس منٹ پر جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتری۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق دار نے جمعہ کے روز بتایا تھا کہ چاروں ملاح ہفتہ کو کراچی پہنچیں گے، تاہم واپسی میں ایک روز کی تاخیر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ دفتر خارجہ اور جبوتی میں پاکستان کے سفارت خانے کی کوششوں سے ملاحوں کی وطن واپسی ممکن ہوئی۔
یرغمالی کے دوران پیش آنے والے واقعات
یہ ملاح ایک ٹینکر پر سوار تھے جسے سومالی قزاقوں نے اغوا کر لیا تھا۔ اس واقعے میں تین پاکستانی شہری مارے گئے تھے، جن کی لاشوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکام کی کوششیں اب بھی جاری ہیں۔
- چار ملاح پانچ ماہ سے زائد عرصے تک سومالی قزاقوں کے قبضے میں رہے
- ملاحوں کی واپسی دفتر خارجہ اور جبوتی میں پاکستانی سفارت خانے کی کوششوں سے ممکن ہوئی
- وطن واپسی کے لیے ایتھوپین ایئرلائنز کی پرواز ET694 استعمال کی گئی
- واقعے میں ہلاک ہونے والے تین پاکستانیوں کی لاشوں کی واپسی کے لیے کوششیں جاری
حکومتی کوششیں اور عوامی ردعمل
نائب وزیراعظم اسحاق دار نے ملاحوں کی رہائی اور وطن واپسی کو حکومت کی ترجیح قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حفاظت اور ان کی واپسی یقینی بنانا اولین فرض ہے۔
سمندری قزاقی کے اس واقعے نے بحیرہ عرب اور خلیج عدن کے راستوں پر تجارتی جہاز رانی کی سلامتی کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں سومالی قزاقوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے اس خطے میں پاکستانی سمندری عملے کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
