ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ انجلینا جولی نے ایک بار پھر غزہ کی تباہی کی طرف عالمی توجہ مبذول کراتے ہوئے سیٹلائٹ تصاویر جاری کی ہیں، جن میں بڑے پیمانے پر علاقے ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
سیٹلائٹ تصاویر میں کیا دکھائی دے رہا ہے؟
انجلینا جولی نے شیئر کی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں واضح کیا کہ غزہ کے متعدد مکمل محلے زمین بوس ہو چکے ہیں۔ ان تصاویر میں رہائشی علاقوں کی بڑی تعداد ملبے کے ڈھیر میں تبدیل شدہ نظر آتی ہے، جس سے تباہی کے پیمانے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اداکارہ نے کہا کہ غزہ میں گھر، اسکول، اسپتال، سڑکیں اور دیگر بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کے لیے بنیادی سہولیات بھی تقریباً ختم ہو گئی ہیں۔
سرد موسم سے قبل انتباہ
انجلینا جولی نے خبردار کیا کہ غزہ کی 94 فیصد آبادی کو سرد موسم کی آمد سے قبل پناہ اور بنیادی سامان کی اشد ضرورت ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر فوری امداد نہ پہنچائی گئی تو انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
جولی کا انسانی حقوق کے لیے کردار
انجلینا جولی برسوں سے انسانی ہمدردی کے امور کی نمایاں وکیل رہی ہیں اور اپنے عوامی پلیٹ فارم کو متاثرین کی مشکلات اجاگر کرنے کے لیے مسلسل استعمال کرتی آئی ہیں۔
اس سے قبل بھی انہوں نے غزہ کی انسانی صورتحال پر کھل کر بات کی تھی اور اسے فلسطینیوں کے لیے ایک “اجتماعی قبر” قرار دیا تھا۔ ان کے ان ریمارکس پر اسرائیلی حلقوں میں شدید تنقید اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔
عالمی برادری پر دباؤ
- غزہ میں بنیادی ڈھانچے کی مکمل تباہی
- 94 فیصد آبادی کو پناہ اور امدادی سامان کی ضرورت
- سرد موسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت
- عالمی برادری پر انسانی امداد بڑھانے کا دباؤ
انجلینا جولی کے اس تازہ بیان نے غزہ میں جاری انسانی بحران کی سنگینی کو ایک بار پھر عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے اور عالمی برادری سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
