اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق دار نے منگل کے روز وزارت خارجہ میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی گفتگو کی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اس ملاقات میں فلسطین، جموں و کشمیر، افغانستان، انسداد دہشت گردی اور کثیرالجہتی نظام کے مستقبل سمیت دیگر بین الاقوامی معاملات زیر بحث آئے۔
کشمیر اور سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا مؤقف
اسحاق دار نے اقوام متحدہ کے سربراہ کو جموں و کشمیر اور سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق کشمیر تنازعے کے منصفانہ اور پرامن حل کے لیے اسلام آباد کی اپیل کا اعادہ کیا۔
نائب وزیراعظم نے پاکستان کی ان سفارتی کوششوں کو بھی اجاگر کیا جو مکالمے کو فروغ دینے اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے کی جا رہی ہیں، جن میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں اسلام آباد کی سہولت کاری بھی شامل ہے۔
مکالمہ اور سفارت کاری پر زور
اسحاق دار نے پاکستان کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ تنازعات کے حل کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی سب سے مؤثر ذرائع ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی طویل المدتی خدمات کو سراہا اور مکالمے، ثالثی اور کشیدگی میں کمی کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف کی۔
ملاقات کے اہم نکات
- فلسطین، جموں و کشمیر، افغانستان اور انسداد دہشت گردی سمیت علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال
- کشمیر تنازعے کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں پاکستان کا مؤقف پیش
- سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات سے آگاہی
- امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کی سہولت کاری کا ذکر
- گوتریس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور اقوام متحدہ میں شراکت داری کی تعریف
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں کشیدگی کے متعدد محاذ فعال ہیں اور پاکستان بین الاقوامی فورمز پر اپنے مؤقف کی مؤثر انداز میں نمائندگی جاری رکھے ہوئے ہے۔
