فرانس کے شہروں مارسے اور لیوں میں منگل کے روز طلبہ نے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے، جن میں ان کے والدین بھی شریک ہوئے۔ مظاہرین نے اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں، اساتذہ کی کمی اور تعلیمی سامان کی عدم دستیابی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
مارسے میں ہزاروں طلبہ سڑکوں پر
مارسے میں پولیس کے مطابق چار ہزار آٹھ سو جبکہ سی جی ٹی کے مطابق تیس ہزار افراد نے مظاہرے میں شرکت کی۔ مظاہرین کی بھاری تعداد کینیبیئر روڈ سے ہوتی ہوئی تعلیمی ادارے کے دفاتر تک پہنچی، تاہم سی آر ایس کی جانب سے سڑک بند کیے جانے کے باعث انہیں اپنا مارچ روکنا پڑا۔
بارہویں جماعت کی طالبہ ماہو نے اپنے اسکول کی ابتر حالت بیان کرتے ہوئے کہا کہ شدید بارش کے دوران چھتوں سے پانی ٹپکتا ہے، بجلی کے آلات سے پانی نکلتا ہے اور عمارتیں گرنے کے قریب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کلاس رومز میں بنیادی سہولیات تک موجود نہیں اور اساتذہ کی شدید کمی کے باعث ان کے روزانہ چار گھنٹے خالی ہوتے ہیں کیونکہ اساتذہ کی غیر حاضری پر متبادل انتظام نہیں ہوتا۔
والدین کی شرکت اور تحفظات
دسویں جماعت کی طالبہ اینا اپنی والدہ کے ہمراہ مظاہرے میں شریک ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس امتحان انتہائی مشکل حالات میں دینا پڑا کیونکہ کلاس رومز میں پنکھے تک نہیں تھے اور ایک کلاس میں بتیس طلبہ کے لیے کرسیاں بھی کم تھیں۔
اینا کی والدہ نے کہا کہ طلبہ کے مطالبات جائز ہیں اور وہ ان کے ساتھ کھڑی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بڑھتی ہوئی سختی کے پیش نظر والدین کی موجودگی ضروری ہے تاکہ بچوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ مظاہرے میں متعدد بینرز کے ذریعے پولیس تشدد کے خلاف بھی آواز اٹھائی گئی۔
لیوں میں بھی بڑا مظاہرہ
لیوں میں بیس ہزار سے زائد مظاہرین نے شرکت کی جن میں طلبہ، اساتذہ، ملازمین اور ریٹائرڈ افراد شامل تھے۔ طالبہ وایلیٹ نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرہ پرامن رہا اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرکت نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
سی جی ٹی سمیت مختلف ٹریڈ یونینوں نے بھی مظاہرین کی اخلاقی اور لاجسٹک معاونت کی۔ ایک تجربہ کار مظاہرین ابراہیم نے نوجوانوں کے نظم و ضبط کو سراہتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کا اپنے حقوق کے لیے متحرک ہونا خوش آئند ہے۔ لیوں کے انتظامی حکام کے مطابق مظاہرے کے دوران گیارہ افراد زخمی ہوئے جن میں نو پولیس اہلکار شامل ہیں۔
