پیرس: فرانس میں ایک پارلیمانی رپورٹ نے 16 سال سے کم عمر افراد کو انرجی ڈرنکس کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی ہے، جس کی وجہ نوجوانوں میں صحت سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات ہیں۔
رپورٹ کے اہم نکات
بدھ کے روز جاری ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریڈ بُل، مونسٹر انرجی، کریزی ٹائیگر اور چاؤ انرجی جیسے مشروبات نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، لیکن ان کے صحت پر منفی اثرات کے پیش نظر 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے ان کی فروخت ممنوع قرار دی جانی چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق، معقول مقدار میں ان مشروبات کے استعمال سے عام آبادی کو کوئی خاص صحت کا خطرہ نہیں، تاہم فرانس میں ان کا استعمال مجموعی طور پر حد سے زیادہ ہو چکا ہے۔ بچوں اور نوعمروں میں یہ استعمال سنگین نقصان دہ اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔
صحت پر اثرات
فرانس میں ان مشروبات سے منسلک متعدد منفی اثرات پہلے ہی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں قلبی اور نفسیاتی علامات شامل ہیں۔ یہ اثرات بنیادی طور پر کیفین کی زیادہ مقدار کے استعمال سے جڑے ہیں، خاص طور پر جب اس کے ساتھ الکحل بھی استعمال کی جائے۔
- دل اور دوران خون سے متعلق مسائل
- نفسیاتی اور ذہنی صحت پر منفی اثرات
- کیفین کی زیادہ مقدار سے نیند کی خرابی
- الکحل کے ساتھ ملاوٹ سے مزید خطرات
دیگر سفارشات
رپورٹ میں تیار الکحلی مشروبات کے حوالے سے بھی سخت ضوابط کی سفارش کی گئی ہے۔ ووڈی جیسی ڈبوں میں دستیاب الکحلی مشروبات، جن میں ووڈکا، کافی اور ٹورین ملایا جاتا ہے، صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیے گئے ہیں اور یہ اکثر ایک ہی ڈبے میں روزانہ کی تجویز کردہ مقدار سے زیادہ الکحل فراہم کرتے ہیں۔
رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ “پریمکس” ٹیکس کو تمام تیار الکحلی مشروبات تک بڑھایا جائے، خاص طور پر ان مشروبات پر جن میں الکحل کی مقدار 12 فیصد سے زیادہ ہو۔ اس کے علاوہ نابالغوں کو الکحل فروخت کرنے پر پابندی کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
اشتہارات پر پابندی کی تجویز
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ موجودہ اشتہاری قوانین سوشل میڈیا کی حقیقت سے ہم آہنگ نہیں رہے۔ اس لیے آن لائن پلیٹ فارمز پر الکحلی مشروبات کی تشہیر اور اشتہارات کی اجازت ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ان سفارشات کو 2027 کے سوشل سیکورٹی بجٹ میں ترامیم اور ایک نئی قانون سازی کی تجویز کی بنیاد بنایا جائے گا۔
