پیرس: فرانس میں اسکولی طلبہ کی جانب سے تعلیمی بجٹ میں اضافے کے مطالبے پر شروع ہونے والی تحریک نے وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو کی تقریر کے باوجود کوئی کمی نہیں آئی۔ طلبہ تنظیموں نے جمعرات آٹھ اکتوبر کو ایک بار پھر ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا ہے، جسے مظاہروں کی چوتھی قسط قرار دیا جا رہا ہے۔
مظاہروں کا پس منظر
گزشتہ منگل کو فرانس بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں منتظمین کے مطابق چار لاکھ پچاس ہزار جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دو لاکھ چھیاسٹھ ہزار افراد نے شرکت کی۔ یہ مظاہرے بغیر کسی بڑے تشدد کے پرامن رہے۔ اس کے بعد طلبہ تنظیموں نے مزید احتجاج کی اپیل کی ہے۔
جمعرات کے احتجاج کی تفصیلات
طلبہ یونین کے مطابق جمعرات کی صبح اسکولوں اور کیمپسوں کے داخلی راستے بند کیے جائیں گے، اس کے بعد دوپہر بارہ سے دو بجے کے درمیان ایل-دو-فرانس کے صوبائی دفاتر کے سامنے اجتماعات ہوں گے۔ سہ پہر تین بجے پلیس ڈی لا باسٹیل پر مرکزی اجتماع طلبہ کی تحریک کی اہم کڑی ہوگا۔
طلبہ فیڈریشن کی صدر سوزان نجم نے بتایا کہ جمعرات کو ملک بھر میں بیس سے زائد شہروں میں مظاہرے ہوں گے جن میں لیون، مارسیل، للی، مونٹپیلیر اور ٹولوز شامل ہیں۔ اگلے ہفتے مزید بڑے پیمانے پر احتجاج کی بھی تیاری کی جا رہی ہے۔
تعلیمی یونینوں کی حمایت
طلبہ کی اس تحریک کو تعلیمی شعبے کی بڑی یونینوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ایس این ای ایس-ایف ایس یو، سی جی ٹی، ایف او اور سوڈ یونینوں نے جمعرات کو ہڑتال اور مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ ایس این ای ایس-ایف ایس یو کی جنرل سیکرٹری سوفی وینیٹیتے نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دیے جانے والے جوابات تاخیر کا شکار اور غیر حقیقی ہیں جو حکومت کی بے چینی کو ظاہر کرتے ہیں۔
وزیراعظم کی تقریر اور طلبہ کا ردعمل
بدھ کی شام وزیراعظم سیباسٹین لیکورنو نے پہلے سے ریکارڈ شدہ تقریر میں کہا کہ طلبہ کی پریشانیوں سے کوئی بے نیاز نہیں رہ سکتا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو طلبہ کے خلاف کارروائی کی ہدایت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پہلے فیصلے اکتوبر کے آخر میں پیش کیے جائیں گے۔
تاہم طلبہ تنظیموں نے اس تقریر کو ناکافی قرار دیا۔ طلبہ یونین نے کہا کہ وزیراعظم نے کوئی تسلی بخش اعلان نہیں کیا، اس لیے احتجاج جاری رہے گا۔ طلبہ یونین نے مطالبہ کیا کہ انہیں اگلے ہفتے وزیراعظم کے دفتر میں ملاقات کے لیے بلایا جائے۔
حکومتی حکمت عملی
وزیر تعلیم ایڈورڈ گیفری جمعرات کی صبح ریمز کے ایک اسکول کا دورہ کریں گے جہاں وہ طلبہ سے مکالمے کے پروگرام میں شرکت کریں گے۔ اعلیٰ تعلیم کے وزیر فلپ بپٹسٹ نے بدھ کو طلبہ تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کی لیکن وہ بھی مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔
واضح رہے کہ فرانس میں تعلیمی اداروں کی ایک بڑی تعداد گزشتہ منگل کو متاثر ہوئی تھی جب کلاسوں کا مکمل یا جزوی طور پر تعطل رہا۔ حکام کے مطابق بدھ کو صورتحال میں کچھ بہتری آئی لیکن جمعرات کو دوبارہ شدت متوقع ہے۔
