فرانس میں اسکولی طلبہ کی جاری تحریک نے حکومت کی جانب سے اپنائی گئی “شرکتِ عامہ” یا شراکتی جمہوریت کی پالیسیوں کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اگرچہ حکومت مکالمے اور مشاورت کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن طلبہ کی جانب سے عائد کردہ بندشوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ محض گفتگو سے مسائل کا حل ممکن نہیں۔
مکالمے کی کوششیں اور طلبہ کا عدم اطمینان
وزیرِ تعلیم ایڈورڈ گیفرے نے جمعرات کے روز ریمز میں طلبہ سے بات چیت کے بعد کہا کہ جب آپ طلبہ کو بات کرنے کا موقع دیتے ہیں تو آپ مسائل کے حل کے قابل ہوتے ہیں۔ حکومت نے اس سلسلے میں ایک “مشاورتی پلیٹ فارم” بھی قائم کیا، جس پر 24 گھنٹوں کے اندر 30,000 تجاویز موصول ہوئیں۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں “اندرونی جمہوریت” کے لیے وقت بھی مختص کیا گیا۔ تاہم، طلبہ کی جانب سے اسکولی عمارتوں کی حالت، تعلیمی اوقات، اساتذہ کی عدم موجودگی اور پارکورسپ کی اصلاحات جیسے ٹھوس مطالبات پر کوئی پیش رفت نہ ہونے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
میکرون دور میں شراکتی جمہوریت کا ملا جلا ریکارڈ
صدر ایمانوئل میکرون کے دور میں شراکتی جمہوریت کو کئی بار آزمایا گیا، لیکن اس کے نتائج ہمیشہ حوصلہ افزا نہیں رہے۔ 2018 میں “زرد جیکٹس” کی تحریک کے دوران “گرینڈ نیشنل ڈیبیٹ” اور “شکایات کے رجسٹر” کے ذریعے عوامی غیظ و غضب کو کم کرنے میں جزوی کامیابی ملی۔ بعد ازاں موسمیاتی تبدیلی پر شہریوں کی کنونشن کا انعقاد ہوا، جس کی سفارشات کو قانونی شکل دینے میں حکومت ناکام رہی۔ اسی طرح 2022 میں “اختتامِ حیات” پر شہری کنونشن نے معاون خودکشی کے حق میں سفارش کی، جس پر 2026 میں قانون منظور ہوا۔ تاہم، بچوں کے اوقاتِ کار سے متعلق 2025 کی شہری کنونشن کی رپورٹ کو بھی نظر انداز کر دیا گیا، جس میں اسکولی اوقات میں تبدیلی اور عمارتوں کی بہتری کی سفارشات شامل تھیں۔
وقت اور پیسے کی کمی
ماہرین کے مطابق، حکومت کے پاس اس وقت نہ تو وقت ہے اور نہ ہی مالی وسائل، جو گہری اصلاحات کے لیے ضروری ہیں۔ وزیرِ اعظم سیبسٹین لیکورنو نے 2027 کے بجٹ میں طلبہ کی تجاویز کو شامل کرنے کا وعدہ کیا ہے، جبکہ وزیرِ تعلیم نے اساتذہ کی عدم موجودگی کے مسئلے پر “ہنگامی منصوبے” کا اعلان کیا ہے۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات سطحی ہیں اور اصل مسائل حل نہیں کرتے۔
نتیجہ
فرانس میں اسکولی تحریک نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ شراکتی جمہوریت کے نام پر محض مشاورت اور مکالمے سے عوامی مسائل حل نہیں ہوتے۔ طلبہ کے ٹھوس مطالبات اور ان پر عمل درآمد کے بغیر، یہ تحریک جاری رہنے کا امکان ہے۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ گفتگو سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے، ورنہ اس کی شرکتِ عامہ کی پالیسیاں محض دکھاوے تک محدود رہیں گی۔
