geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
November 5, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • France's Protest Aftermath: When Dinner Table Debates Turn Toxicفرانس میں مظاہروں کے بعد خاندانی مباحثے: تشدد کی خبریں، مطالبات نظرانداز
    • Why Some Friends Overshare and Others Wait to Be Askedکیا آپ کی دوستی میں بھی گفتگو کا سارا بوجھ آپ اٹھاتے ہیں؟ ماہرین نے “رضاکار” اور “مہمان” طرزِ گفتگو کے راز کھول دیے
    • Six Autumn Escapes in France You Can Reach Without a Carفرانس میں بغیر گاڑی کے خزاں کی سیر: چھ خوبصورت مقامات جہاں پبلک ٹرانسپورٹ سے پہنچا جا سکتا ہے
    صحت و تندرستی
    • Two Wheels, New Worries: The Hidden Stress of the Urban Cycling Boomسائیکلنگ کی سہولت یا خوف؟ فرانسیسی شہروں میں سائیکل سواروں کی بڑھتی پریشانیاں
    • Beat the Yo-Yo Effect With Protein and Strength Trainingڈائٹ کے بعد وزن واپس بڑھنے سے بچنے کا مؤثر طریقہ: ہر کھانے میں پروٹین اور طاقت کی مشقیں
    • Black Market for Eli Lilly's Retatrutide Raises Alarmغیر منظور شدہ موٹاپا کش دوا ریٹاٹروٹائیڈ کی آن لائن غیر قانونی فروخت پر تشویش
    دلچسپ اور عجیب
    • Justice Takes the Wheel: French Electro Duo to Score GTA VI Soundtrackجسٹس فرانسیسی الیکٹرو جوڑی جی ٹی اے 6 کی ساؤنڈ ٹریک تیار کرے گی
    • Drought and Heatwaves Halve Ardèche Chestnut Harvest as Europe Braces for Price Risesخشک سالی اور گرمی کی لہروں نے فرانس میں شاہ بلوط کی فصل کو تباہ کر دیا
    • Salt Stomping: TikTok's Viral Sleep Hack That Experts Say Doesn't Workسالٹ اسٹامپنگ: کیا نمک پر چلنا واقعی نیند کو بہتر بناتا ہے؟
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Mom Slams School for AI-Generating Adult Photo of 6-Year-Oldامریکی اسکول کا چھ سالہ بچی کی “بالغ شکل” بنانے پر تنازعہ: والدین کی اجازت کے بغیر مصنوعی ذہانت کا استعمال
    • Critical PHP Flaws Take Down Global Government Websitesپی ایچ پی میں خطرناک سیکیورٹی خامیاں، دنیا بھر میں سرکاری ویب سائٹس آف لائن
    • Justice Takes the Wheel: French Electro Duo to Score GTA VI Soundtrackجسٹس فرانسیسی الیکٹرو جوڑی جی ٹی اے 6 کی ساؤنڈ ٹریک تیار کرے گی
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

افغان طالبان سے امریکا کے مذاکرات

January 31, 2019 4 1 min read
Afghan Taliban Talks
Share this:

Afghan Taliban Talks

تحریر : محمد صدیق پرہار

افغانستان کے حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکی سینیٹر نے وزیراعظم عمران خان سے اس بات پراتفاق کیا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں۔آج دنیا عمران خان کی افغانستان کے سیاسی حل کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے تسلیم کر رہی ہے کہ وہ درست کہتے تھے۔ان کاکہناتھا کہ دنیاامن ومصالحت پاکستانی کوششوں کو سراہتے ہوئے سمجھتی ہے کہ اس عمل میں پاکستان کااہم کردار ہو گا۔

ہم نے امریکی سینیٹرپرواضح کیا کہ ہم افغانستان میں اپنا کرداراداکررہے ہیں اورکریں گے لیکن یہ مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کے ساتھ خطے کے دیگرممالک کوبھی اپنا کردار ادا کرناہوگا۔وزیرخارجہ نے کہا کہ ہم خواہ کتنی ہی نیک نیتی کا مظاہرہ کریں لیکن مسئلے کے حل کے لیے افغان لوگوںکوخودمل بیٹھناہوگا۔افغان لوگ ماضی کی رنجشیں بھلا کراپنے ملک کے مستقبل کے لیے جب تک نہیں سوچیں گے پاکستان تنہاکچھ نہیںکرسکتا۔یہ آسان کام تھانہ ہے ۔لیکن ہم نے کوشش کی ۔پاکستان نیک نیتی سے آگے بڑھ رہا ہے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کاکہناتھا کہ کل ہماری نیت پرشک کیاجارہا تھا اورآج ہماری کوششوںکوسراہاجارہا ہے۔افغان طالبان کے شریک بانی ملاعبدالغنی برادرکوقطرمیں قائم طالبان کے سیاسی مرکزکے سربراہ کے طورپرنامزدکردیاگیا ہے۔بین الاقوامی نشریاتی ادارے کے مطابق اب وہ افغانستان میں سترہ سال سے جاری خون ریزجنگ کے خاتمے کے لیے امریکاکے ساتھ ہونے والے مذاکرات کونتیجہ خیز بنانے کے لیے اہم کرداراداکریں۔

افغانستان میں طالبان کے ذرائع کاکہناتھا کہ ملاعبدالغنی برادر کو گزشتہ برس اکتوبرمیں پاکستان کی جیل سے رہاکیاگیاتھا اوراب انہیں افغان طالبان کی سیاسی ٹیم کی قیادت کرنے اور فیصلہ سازی کے اختیارات دے دئے گئے ہیں ۔اس سلسلے میں طالبان کی جانب سے ایک بیان بھی جاری کیاگیاجس میں ملاعبدالغنی برادرکی تعیناتی اورامریکاکے ساتھ جاری مذاکرات کی رفتارتیزکرنے کے لیے سینئرراہنماکواہم ذمہ داری سونپنے اورمذاکراتی ٹیم میں ردوبدل کااعلان کیاگیا ۔طالبان کی جانس سے جاری کردہ بیان میں کہاگیا کہ یہ اقدام امریکاکے ساتھ جاری مذاکرات کومضبوط کرنے اوراس عمل کی بہترطورپرانجام دہی کے لیے اٹھایاگیا۔ایک سینئرطالبان راہنما کا کہناہے کہ چونکہ امریکاچاہتاہے کہ مذاکرات میں طالبان کی سینئرقیادت شریک ہوچنانچہ ملاعبدالغنی برادرکونیامنصب سونپاگیا۔قطرکے دارلحکومت دوحامیں افغان طالبان اورامریکی وفدکے درمیان پانچویں روزبھی مذاکرات کاسلسلہ جاری رہا۔

امریکا کی جانب سے مکمل انخلاکاعندیہ تودیاگیا ہے تاہم پانچ افغانی ہوائی اڈوںمیں محدودموجودگی کے حوالے سے طالبان کوقائل کیاجارہاہے۔جب کہ امریکاطالبان سے فوری جنگ بندی کے لیے زوردے رہا ہے۔توقع کی جارہی ہے کہ اگرمذاکراتی عمل جاری رہاتوفریقین کسی بھی قابل قبول حل تک پہنچ جائیں گے۔طالبان کی جانب سے مذاکراتی ٹیم کی قیادت میں اچانک تبدیلی نے امریکی وفدکوبھی حیران کردیا۔طالبان کادعویٰ ہے کہ مذاکراتی عمل متاثرنہیںہوگاجب کہ امریکی وفدطالبان کی اچانک پیش رفت پرمحتاط ہوگئے ہیں۔باوثوق ذرائع نے پاکستان کے قومی اخبارکوبتایا کہ افغان طالبان اورامریکی وفدافغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لیے سرجوڑکربیٹھے ہیں۔

پہلی مرتبہ طالبان اور امریکا کے درمیان معاملات کوحل کرنے کے لیے مذاکرات کے اتنے طویل ادوارہوئے ہیں۔ذرائع کا کہناتھا کہ فریقین افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے طویل مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم اس وقت تک وہ کسی بھی نتیجے پرنہیں پہنچے تھے۔برطانوی ٹی وی کے مطابق دوحا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایک ایسے معاہدے پرکام کیاجارہا ہے جس کے تحت سترہ سال سے افغانستان میں تعینات امریکی فوج آخرکارگھرلوٹ جائے۔اس کے بدلے میںامریکی چاہتے ہیں کہ آئندہ افغان سرزمین کوکسی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کیاجائے۔مذاکرات کے دوران طالبان نے افغان سرزمین امریکایاکسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کرادی۔افغانستان کے خبررساں ادارے طلوع نیوزکے مطابق مذاکرات کے چھٹے روزامریکی حکام نے افغانستان سے اپنی افواج کے انخلاپرآمادگی ظاہرکرتے ہوئے طالبان کوجنگ بندی کاکہا ہے امریکا کی جانب سے یہ بھی مطالبہ کیاگیا ہے کہ طالبان، داعش اور القاعدہ کوخطے میں آپریٹ نہیںکرنے دیں گے۔جس پرافغان طالبان نے رضامندی ظاہرکرتے ہوئے امریکی انخلاء کاٹائم فریم طلب کر لیا ہے۔

طالبان ذرائع نے رائٹرکوبتایا کہ طالبان مذاکرات کاروں اورامریکی حکام نے قطرمیں ہونے والی ملاقات میں مشترکہ سمجھوتے کی شقوںکوحتمی شکل دی ہے تاکہ افغانستان میںسترہ سال سے جاری جنگ بندہوسکے۔ذرائع کے مطابق دونوں ملکوںنے ایک دوسرے کوسہولتیں دی ہیں۔سمجھوتے پردستخط کے بعدسے اٹھارہ ماہ میں غیرملکی فوجوںکاانخلاء ہوگا۔ذرائع اورایک سفارت کارنے بتایا کہ امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زادچھ روزہ مذاکرات کے بعدکابل جاکرصدراشرف غنی کوتفصیلات سے آگاہ کریں گے۔یہ واضح نہیں کہ مشترکہ اعلامیہ جاری کیاجائے گایانہیں ،کیاامریکانے ان نکات کومکمل طورپرقبول کیاہے یانہیں۔کیوں کہ کابل میںامریکی سفارت خانے نے تا حال اس صورت حال پرکوئی تبصرہ نہیںکیا۔طالبان ذرائع کے مطابق شدت پسنداسلامی گروپ نے امریکاکویقین دلایاہے کہ القاعدہ اورداعش کوامریکایااتحادیوںپرحملے کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ امریکاکااہم ترین مطالبہ تھا۔طالبان کاکہناتھا کہ افغان نمائندوں سے اس وقت ہی بات ہوگی جب جنگ بندی پرعمل کیاجائے گا۔طالبان ذرائع کے مطابق دیگرشقوں میں قیدیوں کے تبادلے امریکاکی طرف سے مختلف طالبان راہنمائوں کے بیرون ملک سفرپرپابندیاں ختم کرنے اورجنگ بندی کے بعدایک عبوری افغان حکومت سے متعلق شامل ہیں۔افغان میڈیاکے مطابق امریکاکے جنگ بندی کے مطالبے پرافغان طالبان نے موقف اختیارکیا ہے کہ پہلے امریکااپنے انخلاء کاٹائم فریم دے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی یقینی بنائے کہ امریکاخطے کے دیگرممالک بالخصوص پاکستان کے لیے خطرات پیدانہیںکرے گااس کے بعدہی جنگ بندی ممکن ہوگی۔ دوسری جانب مذاکرات میںامریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زادنے افغان طالبان پرافغان صدراشرف غنی کی حکومت کے ساتھ مذاکرات پرزوردیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات اصلاحات کے لیے ہوں افغانستان پرطالبان کے کنٹرول کے لیے نہ ہوں غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق طالبان کاوفدجنگ بندی کے بعدکابل آئے گا اورافغان حکومت سے علیحدہ مذاکرات کیے جائیں گے۔

ذرائع کاکہنا ہے کہ قطرمیںمذاکرات میں میزبان ملک کے علاوہ پاکستان کے نمائندے بھی شامل رہے۔ذرائع کے مطابق یہ ممکن ہے کہ طالبان سے طے پانے والے حتمی معاہدے کااعلان صدرٹرمپ اپنے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میںکریں ۔غیرملکی میڈیاسے گفتگومیں ترجمان پاک فوج میجرجنرل آصف غفورکاکہناتھا کہ پاکستان نے افغان طالبان اورامریکی حکام کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے سہولت کارکاکام کیا۔ہم نے طالبان کومذاکرات کی میزپرلاکراپناہدف پالیا۔ طالبان کی سیاسی دھارے میںشمولیت سے جنگجوئوں سے نمٹنے کے لیے بہترپوزیشن میں ہوگا۔ امریکا جنگ کے خاتمے میںپاکستان کاکردارتسلیم کرکے جائے گا۔ترجمان پاک فوج کاکہناتھا کہ افغان طالبان دوحامیں حالیہ امریکی قیادت میں مذاکرات سے پاکستان کونہیںنکال رہے اس عمل میں طالبان کے متعددگروپس اوراسٹیک ہولڈرزہیں اس لیے رابطے میں وقت لگتا ہے اورپاکستان کے لیے وقت اورجگہ کے لیے کوئی ترجیح نہیں تھی۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہناتھا کہ ملاقاتوں سے ہونے والی پیش رفت سے تمام چیزوںکاتعین ہوگا۔ امریکی فورسزجب جائیں توافغانستان میں کشمکش نہیںہونی چاہیے ۔

امریکا کوافغانستان سے بحیثیت دوست افغانستان کی مددکے وعدے کے ساتھ جاناچاہیے۔افغان حکومت کے پاس اس وقت دہشت گردوںکی پناہ گاہیں ختم کرنے کی صلاحیت نہیں۔ان کامزیدکہناتھا کہ پاکستان ہمیشہ اہم رہاہے اوررہے گاہرخودمختارملک کی طرح پاکستان قومی مفادکے تحت فیصلے کرتاہے۔افغان صدارتی محل سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ زلمے خلیل زادنے افغان قیادت کوطالبان اورامریکاکے درمیان حالیہ مذاکرات کی تفصیلات بتائیں اورکہا کہ طالبان امریکامذاکرات میں افغانستان میں سیاسی تبدیلی پربات نہیں کی گئی افغان صدارتی محل سے جاری بیان میںمزیددعویٰ کیاگیا کہ زلمے خلیل زادکاکہناتھا کہ مذاکرات میں افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام سے متعلق بھی کوئی بات نہیں کی گئی۔ جب کہ طالبان سے جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کیے جس میںکوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔زلمے خلیل زادنے کہا کہ مذاکرات میں طالبان راہنمائوںنے افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلاء کامطالبہ دہرایاتاہم اس موقع پرامریکی فوج کے انخلاء کاکوئی معاہدہ طے نہیںپایا۔افغان طالبان اشرف غنی نے افغان طالبان کوبراہ راست مذاکرات کی پیش کش کر دی۔

ان کاکہناتھا کہ افغان حکومت چالیس سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے افغان طالبان کے پاس صرف دوآپشن ہیں پہلایہ کہ وہ افغان شہریوں کے ساتھ کھڑے ہوں یاپھردوسرے ممالک کے ہاتھوں استعمال ہوتے رہیں۔اشرف غنی نے کہا کہ ہم عوام کویقین دلاناچاہتے ہیں کہ امن کے نام پران کے حقوق اورحق پرسمجھوتہ نہیںکیاجائے گا۔ملکی حاکمیت کوبرقراررکھاجائے گا۔افغانستان میںموجودغیرملکی فورسزکی موجودگی پراشرف غنی نے کہا کہ کوئی ملک یہ نہیں چاہتا مگر افغانستان کوان فورسزکی ضرورت ہے۔غیرملکی فورسزملک سے نکل جائیں گی۔

آفتاب شیرپائونے تمام فریقین پرزوردیا کہ امن مذاکرات کواس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے مثبت کردار اداکرناچاہیے تاکہ جنگ زدہ ملک میں امن واستحکام کے قیام کی راہ ہموارہوسکے ۔افغانستان میںامن واستحکام کے قیام سے خطے بالخصوص پاکستان میں استحکام کودوام ملے گا۔آفتاب شیرپائونے کہا کہ امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے افغان حکومت کواعتمادمیںلیاجائے۔پاکستان اورروس کے درمیان خطے، افغانستان پائیدارامن کے لیے علاقائی اقدامات کی حمایت پراتفاق ہواہے۔روسی صدرکے خصوصی نمائندے کی شاہ محموداورتہمینہ جنجوعہ سے ملاقاتوںمیں افغان مصالحتی عمل میں پاکستان کے کردارکوسراہاگیا ۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں امن واستحکام سے متعلق ہماری اورروس کی سوچ قریب ترہے ، باہمی تعاون سے آگے بڑھنے کافیصلہ کیا۔ نیٹونے طالبان امریکامذاکراتی عمل کوخوش آئندقراردے دیاہے۔امریکی وزیرخارجہ نے افغان طالبان سے مذاکرات کوحوصلہ افزاقراردیتے ہوئے کہا ہے کہ فوجوںکی واپسی پریقین رکھتے ہیں۔

امریکا نے افغان طالبان سے حتمی مذاکرات کرکے اورافغانستان سے اٹھارہ میں نکل جانے کاٹائم فریم دے کراپنی شکست کواعلانیہ تسلیم کرلیا ہے۔ دنیاکی سپرپاورکہلوانے والاامریکاجس کے پاس دنیاکاجدیدترین اسلحہ اورسب سے زیادہ گھمنڈہے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے افغان طالبان سے مذاکرات پر مجبور ہوا۔ امریکاکی سب قوتیں ناکام ہوگئیں۔ امریکاکوجب افغانستان میں آناتھا اس وقت بھی اسے پاکستان کی ضرورت تھی اوراب جبکہ جانے کاوقت آیا ہے توبھی اسے پاکستان کی ضرورت پڑی۔ یہ پاکستان کے لیے اعزازکی بات ہے کہ دنیاکی سپرپاوربھی پاکستان کے بغیرکچھ نہیںکرسکتی۔ امریکا اس لیے بھی مذاکرات پر مجبورہواکہ پاکستان کی طرف سے بارڈرمنیج منٹ کے بعد اب وہ افغانستان میں بیٹھ کرپاکستان میںمنفی کارروائیاں نہیںکراسکتا۔ امریکا کی شکست تواس وقت شروع ہوگئی تھی جب پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنی پالیسی کے مطابق لڑنے کاآغاز کیا۔

افغان طالبان اورامریکی حکام کے درمیان معاملات کوحتمی شکل تودے دی گئی ہے۔ فریقین کے درمیان باضابطہ معاہدہ نہیںہوا۔ فریقین کے درمیان باضابطہ معاہدہ اس وقت ہوگا جب اس پرفریقین کے دستخط ہوں گے۔ معاہدہ کے حوالے سے کوئی مشترکہ اعلامیہ بھی جاری نہیںکیاگیا۔ جب کہ افغان طالبان اس معاہدہ سے مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔ کوئٹہ سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ کی خبرکے مطابق افغان طالبان کے سربراہ شیرعباس سٹانکزئی نے افغان میڈیاکوجاری کردہ ایک پیغام میں کہا ہے کہ امریکااتحادی افواج کے افغانستان سے انخلاء پرسنجیدہ دکھائی دیتا ہے۔ زلمے خلیل زادکایہ کہنا کہ افغان طالبان سے کوئی معاہدہ نہیںہوا۔ اس سے امریکی عزائم کااندازہ لگایاجاسکتاہے۔ امریکانے کتنی کوششوں سے طالبان سے مذاکرات کیے۔ امریکانے افغان طالبان سے مذاکرات کے لیے کیاکچھ نہیںکیا۔ ہوسکتا ہے کہ اس معاہدہ کاباضابطہ اعلان امریکی صدرٹرمپ ہی کریں۔ وہ طالبان سے مذاکرات کی کامیابی کے خواہش مند بھی ہیں۔
Muhammad Siddique Prihar

تحریر : محمد صدیق پرہار
siddiqueprihar@gmail.com

Share this:
Sardar Masood visit to Alkhidmat Stall
Previous Post الخدمت فاؤنڈیشن کے ملک میں جاری فلاحی کاموں کو سراہتے ہیں۔ سردار مسعود خان
Next Post مصطفی آباد سروس روڈ پر چیف آفیسر میونسپل کی ملی بھگت سے تجاوزات کی بھر مار
Mohammad Nadeem

Related Posts

UNICEF Warns Attacks on Water Systems in Conflict Zones Have Tripled Since 2021

تنازعات میں پانی کے نظام پر حملے تین گنا بڑھ گئے، یونیسف کی سنگین انتباہ

November 5, 2026
Hong Kong Court Hands Joshua Wong 10 More Years in Prison Under Security Law

ہانگ کانگ: جوشوا وونگ کو مزید 10 سال قید کی سزا، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت

November 5, 2026
Westminster Palace at Risk of Notre-Dame-Style Disaster, MPs Warn

ویسٹ منسٹر پیلس: نوٹر ڈیم جیسے بڑے حادثے کا خدشہ، برطانوی ایم پیز کی سنگین وارننگ

November 5, 2026
Democrats Warn Tech Giants: "Prepare Your Lawyers" as Data Center Probes Loom

امریکی وسط مدتی انتخابات: ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی کمپنیوں کے لیے بڑا خطرہ

November 5, 2026

Popular Posts

1 Vladimir Putin

امریکی میزائل تجربے کا جواب دیا جائے، پوٹن کی ہدایات

2 Imad Wasim

قومی کرکٹر عماد وسیم بھی رشتہ ازدواج میں منسلک

3 Meeting

انجینئر افتخار چودھری نے ریاٹرڈ جرنیل ڈاکٹر محمد مصطفی الجہنی سے ملاقات کی

4 Shah Mahmood Qureshi - António Guterres

شاہ محمود قریشی اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے درمیان رابطہ طے پا گیا

5 Khamisani Socail Welfare Trust

محمد سلیم خمیسانی کا سیفی ویلفیئر سوسائٹی کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد

6 Indian Army in Kashmir

کرفیو اور لاک ڈاؤن کے باوجود ہزاروں کشمیریوں کا بھارت کیخلاف مظاہرہ

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.