ٹی20 ورلڈ کپ میں 61 رنز کی شکست نے قومی ٹیم پر تنقید کا طوفان کھڑا کردیا
پاکستان کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے قومی ٹیم کی بھارت کے خلاف ناقابل قبول کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے بڑے فیصلے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے ہاتھ میں اختیار ہوتا تو وہ بابر اعظم، شاہین آفریدی اور شاداب خان جیسے سینئر کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر بٹھا کر نئے لڑکوں کو موقع دیتے۔
میچ کا احوال اور آفریدی کی تنقید
اتوار کو کھیلے گئے ٹی20 ورلڈ کپ کے اہم میچ میں بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 175 رنز بنائے۔ جواب میں پاکستانی ٹیم محض 18 اوورز میں 114 رنز بنا کر مکمل طور پر آؤٹ ہوگئی، جس کے نتیجے میں انہیں 61 رنز کی بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
شاہد آفریدی نے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا، “بھارت کے خلاف میچ میں ہم نے بہت غلطیاں کیں۔ بھارت جیت کا حق دار تھا۔ کپتان سلمان علی آغا کے فیصلے بالکل سمجھ نہیں آئے۔ ہمارا جو ٹرمپ کارڈ تھا عثمان طارق، اسے 10 اوورز تک کیوں چھپائے رکھا؟”
شاہین آفریدی کی بولنگ پر سوالات
سابق کپتان نے شاہین آفریدی کی بولنگ پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا، “شاہین نے بھی اچھی بولنگ نہیں کی۔ پہلے اوور میں رنز کھانے کے بعد بھی آخری اوور شاہین کو دیا گیا، جبکہ ہمارے پاس فہیم اشرف بھی موجود تھا۔”
سینئر کھلاڑیوں کی کارکردگی پر تشویش
آفریدی نے زور دے کر کہا کہ سینئر کھلاڑیوں کو طویل عرصے سے موقع دیا جا رہا ہے، لیکن جب بڑی ٹیموں کے خلاف اچھی کارکردگی کی امید کی جاتی ہے تو وہ مایوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، “اگر میرے ہاتھ میں فیصلہ ہو تو میں شاہین، شاداب خان اور بابر کو ٹیم سے باہر بٹھاؤں اور نئے لڑکوں کو موقع دوں۔”
ٹورنامنٹ کی صورتحال اور آئندہ راستہ
بھارت کے خلاف شکست کے بعد پاکستان کا نیٹ رن ریٹ شدید متاثر ہوا ہے، جس کی وجہ سے وہ پوائنٹس ٹیبل پر امریکا سے نیچے آگئے ہیں۔ اب ٹیم کے لیے سپر ایٹ مرحلے میں جانے کیلئے اگلا میچ نمیبیا کے خلاف جیتنا لازمی ہوگیا ہے۔
شاہد آفریدی نے اس موقع پر تجویز پیش کی کہ نمیبیا کے خلاف اگلے میچ میں نئے لڑکوں کو موقع دیا جانا چاہیے، کیونکہ موجودہ سینئر کھلاڑی بڑے میچوں میں مطلوبہ پرفارمنس دینے میں ناکام رہے ہیں۔
ٹیم میں تبدیلیوں کے مطالبے کی گونج
شاہد آفریدی کی یہ تنقید اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان بھارت سے گذشتہ چار ماہ میں چوتھی شکست کا سامنا کرچکا ہے۔ اس شکست کے بعد نہ صرف فینز بلکہ دیگر سابق کرکٹرز بھی ٹیم کی کارکردگی پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔ محمد یوسف جیسے سابق کھلاڑی بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرچکے ہیں کہ ٹیم کو نئے پرفارمرز کی ضرورت ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور ٹیم مینجمنٹ اس شکست کے بعد کیا ردعمل ظاہر کرتی ہے اور کیا واقعی ٹیم میں بڑی تبدیلیاں کی جائیں گی۔
