اسرائیل میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد سیاسی صورتحال شدید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا دائیں بازو کا بلاک اور حزب اختلاف کے درمیان سخت مقابلہ ہے، جبکہ کسی بھی فریق کو 120 رکنی کنیست میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل نہیں ہو رہیں۔
عرب جماعتوں کا تاریخی کردار
اس انتخابات میں سب سے اہم پیش رفت عرب اسرائیلی جماعتوں کی ریکارڈ کامیابی ہے۔ راعم (متحدہ عرب فہرست) اور متحدہ فہرست کے نام سے انتخاب لڑنے والی جماعتوں کو تقریباً 17 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جو کہ اسرائیلی سیاست میں عرب جماعتوں کی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
یہ جماعتیں اب حکومت سازی کے عمل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اگر حزب اختلاف کی مرکزی بلاک، جس کی قیادت سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزنکوٹ کر رہے ہیں، ان جماعتوں کی حمایت حاصل کر لے تو نیتن یاہو کو اقتدار سے باہر کیا جا سکتا ہے۔
متحدہ فہرست کا مؤقف
متحدہ فہرست کے رہنما یوسف جبارین نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں کہا کہ موجودہ حالات میں کسی حکومتی اتحاد میں شامل ہونا ممکن نہیں، لیکن وہ نیتن یاہو کی حکومت گرانے کے لیے متبادل حکومت کی حمایت کر سکتے ہیں۔
انہوں نے غزہ کی جنگ اور مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بستیوں کی توسیع اور آباد کاروں کی تشدد کی کارروائیاں روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں، اس لیے موجودہ حالات میں اتحاد میں شامل ہونا مشکل ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ متبادل حکومت کو حمایت دی جا سکتی ہے بشرطیکہ وہ اس میں شامل نہ ہوں۔
اسرائیلی بائیں بازو کی اپیل
اسرائیلی بائیں بازو کے رہنما یائر گولان نے حزب اختلاف پر زور دیا ہے کہ وہ عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کر کے نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے حکومت تشکیل دے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں نیتن یاہو کی نسلی تقسیم کو مزید قبول نہیں کرنا چاہیے اور ہمارے پاس اسرائیل کے عرب شہریوں کے ساتھ شراکت میں تبدیلی کی حکومت بنانے کا موقع ہے۔
نیتن یاہو کا بلاک آگے لیکن اکثریت سے محروم
انتخابی کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق، 85 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد نیتن یاہو کی لیکود پارٹی اور اس کے اتحادیوں کو 54 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ آئزنکوٹ کی قیادت میں حزب اختلاف کے بلاک کو 49 نشستیں حاصل ہو رہی ہیں۔ واضح رہے کہ حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں ضروری ہیں۔
حتمی نتائج جمعہ کی صبح متوقع ہیں۔ اس کے بعد صدر اسحاق ہرزوگ مختلف جماعتوں کے سربراہان سے ملاقات کریں گے اور اس شخص کی نشاندہی کریں گے جسے حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔
صدر کی اپیل
صدر اسحاق ہرزوگ نے سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر ممکن کوشش کریں تاکہ نئی انتخابات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومتی اتحاد بنانے میں ناکامی ہوئی تو نئی انتخابات ناگزیر ہوں گے، اس لیے تمام جماعتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
لیکود کے الزامات
لیکود پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ انتخابات میں عرب جماعتوں کی جانب سے دھاندلی کی گئی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کرپشن، دھمکیوں، تشدد، جعلسازی اور غیر قانونی سافٹ ویئر کے استعمال کے شواہد موجود ہیں۔ تاہم مبصرین ان الزامات کو سیاسی بیان بازی قرار دے رہے ہیں۔
غزہ میں اسرائیلی حملے جاری
ادھر غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ فلسطینی ہنگامی خدمات کے مطابق بدھ کے روز جنوبی غزہ میں متعدد اسرائیلی حملوں میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ رفح میں ڈرون حملے میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جن میں کچھ کی حالت تشویشناک ہے۔ خان یونس میں ایک اور حملے میں چوتھا شخص ہلاک ہوا۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا ہے۔
حزب اللہ کا ردعمل
لبنانی حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اسرائیلی انتخابات کے نتائج کی پرواہ نہیں کرتی اور وہ ہمسایہ ملک کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھے گی، چاہے کوئی بھی جیتے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی قبضہ جاری نہیں رکھ سکتا اور اسے ہماری زمین سے نکلنا ہوگا۔
ایران کی وارننگ
ایران نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے بین الاقوامی منڈیوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ خلیج فارس کے علاقے میں اسرائیل کی کسی بھی فوجی مہم جوئی کے گیس فراہم کنندگان اور صارفین دونوں کے لیے سنگین نتائج ہوں گے۔
یاد رہے کہ منگل کی شب نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تہران کی “وجودی خطرے” کو مستقل طور پر ختم کرنے کا “تاریخی موقع” ملا ہے۔
سربیا میں اسرائیلی سفارت خانے پر حملہ
دریں اثنا، سربیا کے دارالحکومت بلغراد میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایک شخص نے پولیس اہلکار پر چاقو سے حملہ کیا۔ سربیا کے وزیر داخلہ کے مطابق حملہ آور کو پولیس نے دفاعی فائرنگ میں ہلاک کر دیا۔ حملہ آور نے “اللہ اکبر” کے نعرے لگائے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سفارت خانے کا کوئی عملہ زخمی نہیں ہوا۔
یورپی یونین کا مؤقف
یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کی نئی حکومت کے ساتھ “کھلے اور صاف” مکالمے کے لیے تیار ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے ترجمان نے کہا کہ یونین جمہوری اصولوں اور مشترکہ اقدار کی بنیاد پر نئی حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی خواہاں ہے۔
دفاعی وزیر کا بیان
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے حزب اختلاف کے رہنما گاڈی آئزنکوٹ کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے فوجی حکام سے کہا تھا کہ وہ نیتن یاہو کی ممکنہ دباؤ کا سامنا کرنے کے لیے ثابت قدم رہیں۔ کاٹز نے اسے “غیر جمہوری اور حقیقت سے دور” قرار دیا۔
